واشنگٹن: امریکا کے ادارہ برائے خوراک و ادویات نے ریڑھ کی ہڈی کی نایاب بیماری کے علاج کے لیے ایک جدید جین تھراپی "اٹویسما” کی منظوری دے دی ہے، جسے طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ علاج دو سال یا اس سے زائد عمر کے ان بچوں اور بالغ افراد کے لیے ہے جن میں مخصوص جینیاتی خرابی پائی جاتی ہے۔
یہ بیماری ایک موروثی عارضہ ہے جس میں اعصابی خلیات بتدریج ختم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث پٹھے کمزور ہو کر سکڑ جاتے ہیں اور شدید صورتوں میں مریض مفلوج بھی ہو سکتا ہے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ماضی میں یہ بیماری بچوں میں اموات کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتی رہی ہے، تاہم نئی جین تھراپی اس کے بنیادی سبب کو ہدف بناتی ہے، جس سے علاج کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس علاج میں ایک خاص وائرس کے ذریعے صحت مند جین مریض کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، جو متاثرہ خلیات کو دوبارہ فعال بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ طریقہ کار ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال مادے میں انجیکشن کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جس سے دوا براہِ راست متاثرہ اعصاب تک پہنچتی ہے۔
اس جین تھراپی کا بنیادی مقصد بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا اور مریض کی جسمانی صلاحیتوں جیسے بیٹھنے، کھڑے ہونے اور چلنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس علاج کو فوری منظوری دینے کی وجہ اس بیماری کے مریضوں کے لیے مؤثر علاج کی شدید کمی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس جدید علاج کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، جن میں جگر اور دل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ شامل ہے، اس لیے مریضوں کی مسلسل طبی نگرانی ضروری ہوگی۔
پاکستان میں اس پیش رفت کو امید اور تشویش دونوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق قریبی رشتہ داری کی شادیوں کے باعث اس بیماری کے کیسز نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں، تاہم تشخیص کے مؤثر نظام کی کمی کے باعث بیشتر مریض سامنے نہیں آ پاتے۔
علاوہ ازیں اس قسم کی جین تھراپی نہایت مہنگی ہونے کے باعث عام پاکستانی مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے، جس کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اور عالمی تعاون ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کے مریضوں کا قومی ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ادویات ساز اداروں سے رعایتی قیمتوں پر علاج کی فراہمی کے لیے بات چیت کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اس جدید علاج سے فائدہ اٹھا سکیں۔
