اسلامیہ یونیورسٹی کا ریڈیو پاکستان کا تاریخی دورہ

newsdesk
7 Min Read
اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے تاریخی میوزیم، نشریاتی آلات اور ایف ایم ایک سو ایک اسٹیشن کا دورہ کیا اور تعاون کی دعوت دی۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: چنگیز خان جدون سے) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے گزشتہ روز ریڈیو پاکستان اسلام آباد کا اہم دورہ کیا، جو نہ صرف معلوماتی اور تاریخی نوعیت رکھتا تھا بلکہ میڈیا، تعلیمی تعاون اور قومی ورثے کے فروغ کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کی آمد پر ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد سعید شیخ اور اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان اسلام آباد عمران جاوید نے پرتپاک استقبال کیا۔ یہ ملاقات ایک رسمی دورہ سے کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ ایک ایسے علمی و تاریخی سفر کا نشان ثابت ہوئی جس نے ریڈیو پاکستان کی بیش قیمت تاریخ اور اس کے عظیم کردار کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کو ریڈیو پاکستان کے تاریخی میوزیم کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔ اس میوزیم میں وہ نوادرات موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی۔ وائس چانسلر نے پرانے ریڈیو سیٹس، ریکارڈنگ کے آلات، تاریخی نشریات کے لیے استعمال ہونے والی مشینری، اور وہ تمام تنصیبات دیکھیں جو آج بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں۔ میوزیم میں موجود وہ پہلا ریڈیو اسٹیشن جس سے پاکستان کی آزادی کا اعلان نشر کیا گیا تھا، ڈاکٹر محمد کامران کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث بنا۔ انہوں نے اس اسٹیشن کی ساخت، تکنیکی پہلوؤں، اور اس کے تاریخی کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے 14 اگست 1947 کو "یہ ریڈیو پاکستان ہے” کی تاریخی صدا گونجی تھی، اور یہی لمحہ پاکستان کی نشریاتی تاریخ کی بنیاد بنا اور قیا س ھے کہ یہ ریڈیو سٹیشن ریڈیو کے موجد مارکونی کے ھاتھوں کی تخلیق ھے۔

دورے کے دوران پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے وہ مائیک بھی دیکھا جس پر بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تاریخی تقریریں ریکارڈ کروائیں۔ اس مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر وائس چانسلر نے بتایا کہ یہ صرف ایک مائیک نہیں بلکہ پاکستان کی جدوجہد، نظریے اور قیام کا گواہ ہے۔ انہوں نے اس تاریخی ورثے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس بات کو سراہا کہ ریڈیو پاکستان ادارہ آج بھی اپنی تاریخ کو انتہائی ذمہ داری سے محفوظ کر رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد کامران نے ریڈیو پاکستان کے محفوظ شدہ نوادرات، پرانے نشریاتی آلات اور کلاسک ریکارڈنگ کے ساز و سامان کا بھی تفصیلی معائنہ کیا اور کہا کہ یہ ورثہ نہ صرف نوجوان نسل کو اپنی تاریخ سے جوڑنے کا ذریعہ ہے بلکہ تحقیق اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی قابلِ قدر مواد فراہم کرتا ہے۔

وائس چانسلر نے ریڈیو پاکستان کے ایف ایم 101 اسٹیشن کا بھی دورہ کیا، جہاں ان کو جدید نشریاتی سسٹمز، لائیو کنٹرول رومز، اور آن ایئر اسٹوڈیو دکھائے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد کامران نے ایف ایم 101 کی براہِ راست نشریات میں شرکت کی اور میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی تعلیمی سرگرمیوں، تحقیق کے فروغ، طلبہ کے لیے بنائے گئے نئے تعلیمی پروگرامز اور میڈیا اسٹڈیز کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو آج بھی اہم ترین ابلاغی ذریعہ ہے، خصوصاً نوجوان نسل تک مثبت اور مؤثر پیغام پہنچانے میں اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ایف ایم چینلز نوجوانوں کی رہنمائی، قومی اقدار کے فروغ اور معاشرتی آگاہی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دورے کا ایک اہم حصہ وہ خصوصی انٹرویو تھا جو ریڈیو پاکستان کے جدید پوڈکاسٹ اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیشن ڈائریکٹر اسلام آباد، عمران جاوید نے خود یہ انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس دوران وائس چانسلر نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اسلامیہ یونیورسٹی کی کامیابیوں، مستقبل کی حکمتِ عملی، اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کی ضرورت پر جامع گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان جیسے قومی اداروں کے ساتھ اشتراک سے یونیورسٹیوں کو تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے میڈیا اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل علم، تحقیق اور ابلاغ کے بہتر اشتراک میں پوشیدہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کا یہ دورہ مختلف حوالوں سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان ایک ایسا قومی ادارہ ہے جس نے سات دہائیوں سے مجموعی قومی بیانیے کو تشکیل دینے اور قوم کی سماجی و ثقافتی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وائس چانسلر کا اس ادارے کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی ادارے اور قومی میڈیا مل کر مثبت سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد کامران نے تجویز پیش کی کہ یونیورسٹی کے شعبۂ میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ کو ریڈیو پاکستان کے ساتھ انٹرن شپ اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اس تجویز کو ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے بھی سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مجموعی طور پر یہ دورہ نہایت کامیاب، معلوماتی اور تاریخی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے نہ صرف ریڈیو پاکستان کی قدیم تاریخ اور ورثے کا مشاہدہ کیا بلکہ ادارے کی جدید پیش رفت اور تکنیکی ترقی کو بھی سراہا۔ اس دورے سے دونوں اداروں کے درمیان مستقبل میں مزید تعاون کی راہیں ہموار ہوں گی اور قومی سطح پر تعلیمی و نشریاتی سرگرمیوں کو نئی سمت ملے گی۔ یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے اور قومی میڈیا ایک بہتر اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے