بیلجیم کے سفارت خانے کے وفد نے اسلام آباد میں قائم خاندانی تحفظ اور بحالی مرکز کا دورہ کیا جہاں مقامی تنظیموں کی مدد سے متاثرہ خواتین کو نئی زندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ مرکز یوروپی یونین کے مالی تعاون سے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے منصوبے کے تحت چل رہا ہے اور اس میں ناروے کی امدادی تنظیم کے شراکت دار اور مقامی تنظیم روزن بھی شریک ہیں۔دورے کے دوران مرکز کے عملے نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مختلف خدمات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ متاثرہ خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت اور ابتدائی سرمایہ فراہم کر کے خود روزگاری کے قابل بنایا گیا ہے جس سے کئی خواتین نے اپنے چھوٹے کاروبار شروع کیے ہیں۔ خاتون پناہ گاہ میں فراہم کی جانے والی تربیت اور مالی معاونت نے متاثرہ خواتین کو معاشی خودمختاری کی طرف گامزن کیا ہے۔مرکز کی سہولیات کو بہتر بنانے اور عملے کو نفسیاتی معاونت کی تربیت دینے میں یورپی معاونت کا اہم کردار رہا ہے۔ روزن کے مطابق، محفوظ ماحول موثر تھراپی اور مشاورت کو ممکن بناتا ہے اور یہی ماحول خواتین کی بحالی کے عمل کو تقویت دیتا ہے۔ اس تناظر میں مرکز کے اگلے مراحل میں اعداد و شمار کو برقی شکل میں منظم کرنا اور خدمات کی ڈیجیٹل رجسٹری تیار کرنا شامل ہے تاکہ مدد حاصل کرنے والی خواتین کو بہتر انداز میں سہولت میسر ہو سکے۔پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد خاص طور پر دیہی اور محروم طبقات میں شدید مسئلہ ہے، اس لیے ایسے اقدام قوانین کے نفاذ اور متاثرین کو انصاف و تحفظ فراہم کرنے میں اہم ثابت ہوتے ہیں۔ ان منصوبوں کا ہدف نہ صرف طبی اور نفسیاتی بحالی ہے بلکہ معاشی طور پر بھی متاثرہ خواتین کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ اپنے لیے مستقل مستقبل قائم کر سکیں۔مدد درکار ہونے کی صورت میں وزارت برائے انسانی حقوق کی ہیلپ لائن نمبر 1099 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ خواتین پناہ گاہ اور اس جیسے منصوبے انصاف، تحفظ اور امید کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
