سپیکر نیشنل اسمبلی سردار ایاز صدیق کی صدارت میں اسلام آباد کے پارلیمانی سیکریٹریٹ میں ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۵ کو پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے اسپیکروں کا تیسرا تین طرفہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپیکر ملی مجلس آذربائیجان صحیبا گفارفوا، سپیکر گرینڈ نیشنل اسمبلی ترکی نومان کرتلمش اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی شریک ہوئے جنہوں نے پارلیمانی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔سپیکر نیشنل اسمبلی نے میزبانی پر اپنے خطاب میں تینوں بھائی ملکوں کے مابین اس پارلیمانی شراکت کو حکومتی تعاون سے بڑھ کر عوامی خواہش اور پارلیمانوں کی آواز قرار دیا اور اجلاس کے موضوع "تین طرفہ پارلیمانی تعاون برائے علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی” کو اسی مشترکہ عزم کی عکاسی بتایا۔ انہوں نے عالمی سکیورٹی کے بحران، حدود کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں خصوصاً غزہ کی صورتِ حال اور زیرِانتظام کشمیر کے حق خودارادیت کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی اور حالیہ سرحدی کشیدگی کے ردِعمل میں پاکستان کی مسلح افواج کے اقدامات کو ملکی خودمختاری کے دفاع کے طور پر سراہا۔ اسپیکر نے دریائے سندھ کے پانیوں کے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس عمل کو غیر ذمہ دارانہ بتایا۔خطاب میں یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی کی کوئی مذہبیت نہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ باہمی اشتعال انگیزی اور افغان سرزمین سے مبینہ سرحد پار حملوں کے باوجود پاکستان نے ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا، اور مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف واضح کامیابیوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بھی زور دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی طور پر انتہائی متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور ۲۰۲۲ اور ۲۰۲۵ کے سیلابوں نے عالمی موسمیاتی ناانصافی کو نمایاں کیا، لہٰذا علاقائی سطح پر ایک مربوط پارلیمانی فریم ورک کے تحت کلائمیٹ ایکشن کی ضرورت ہے۔سپیکر ملی مجلس آذربائیجان نے اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اقدام بیسویں بیس نکتے کی پیروی ہے جو ۲۰۲۱ میں باکو میں شروع ہوا تھا، نیز انہوں نے غیر متحالف تحریک کے پارلیمانی نیٹ ورک کے قیام کو تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تاریخی ثقافتی اور اخلاقی ہم آہنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے آذربائیجان کی حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ میں جاری جارحیت کے خلاف بھی رائے دی۔سپیکر ترکی نے پاکستانی قیادت کی تعریف کی، ۲۰۲۲ اور ۲۰۲۵ کے سیلابی متاثرین کے لیے ترکی کی یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف ہرگز سمجھوتہ نہ کرنے کی بات دہرائی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت اور کشیدگی کے عالمی حل کے لیے موثر بین الاقوامی مکینزم کے قیام پر زور دیا اور اعلان کیا کہ آئندہ تین طرفہ پارلیمانی اجلاس استنبول میں منعقد ہوگا جس کا محور فلسطینی مسئلہ ہوگا۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ترکی، آذربائیجان اور پاکستان کے روابط ایمان، ثقافت اور باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط ہیں اور پارلیمانی فورم نہ صرف سفارتی میل جول بلکہ عملی تعاون کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں کو امن، ترقی اور عدل کے لیے فعال رول ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں اعتماد اور خوشحالی بڑھے۔ اجلاس میں پارلیمانی وفود کی شرکت سے یہ واضح ہوا کہ تین طرفہ پارلیمانی تعاون مستقبل میں علاقائی امن، سکیورٹی اور مشترکہ ترقی کے نئے راستے کھولے گا۔
