اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم اور سائنس کا نقشہ تیار

newsdesk
4 Min Read
تنظیمِ تعاونِ اسلامی کی قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم اور سائنس کے لیے مستقبل کا نقشہ پیش کیا، جدت اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا

تنظیمِ تعاونِ اسلامی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون کے سیکریٹریٹ اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی مکالمے میں اعلیٰ تعلیم اور سائنس کے مستقبل کے لیے جامع حکمتِ عملی پر بات ہوئی۔ یہ اجلاس علم، پالیسی سازان، تعلیمی قائدین اور سفارتی حلقوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جہاں خطے میں تعلیمی معیار، مساواتِ تعلیم اور سائنسی اشتراک پر مباحثے ہوئے۔ اس موقع پر متعلقہ گفتگو کا محور خاص طور پر سائنس اور تعلیم کے باہمی ربط اور نوجوان نسل کی تیاری رہا۔پروفیسر ڈاکٹر بی بی امینہ فردوس گریب فکیم نے بطور مہمانِ خصوصی کلیدی خطاب میں عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور توانائی کے انتقال جیسے چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ سائنسی اور تعلیمی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو جدید تحقیقاتی ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی تلقین کی تاکہ نوجوان بااختیار بنیں اور شمولیتی ترقی ممکن ہو سکے۔پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود نے اپنے خطاب میں مصنوعی ذہانت اور فطرتی مہارتوں کے امتزاج پر روشنی ڈالی اور کہا کہ "مصنوعی ذہانت انسان اور فطرت کے درمیان نئے ربط پیدا کر رہی ہے” جس کے باعث آنے والی نسلیں مختلف اور ہم آہنگ مہارتیں سیکھیں گی۔ ان کا اصرار تھا کہ سکولوں اور جامعات کو ایسے ہنروں کی تربیت دینی چاہیے جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں۔پروفیسر ڈاکٹر سید سہیل حسین نقوی نے جامعات کے معاشی کردار پر بات کی اور واضح کیا کہ جامعات کو روایتی تعلیم گاہوں سے آگے بڑھ کر علم پیدا کرنے، کاروبار سازی اور سماجی اثر کے مراکز بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اشتراکِ عمل، تحقیق اور صنعت کے درمیان پُل کا کردار ادا کریں تاکہ مقامی معیشتیں مضبوط ہوں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکالمہ تعلیمی مساوات، تعلیمی معیار کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے بامعنی مباحثے کو جنم دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کا سماجی و اقتصادی ترقی کا مدار قدرتی وسائل پر نہیں بلکہ علم اور جدت پر ہے اور اس تبدیلی کے لیے جامعات اور تحقیقاتی ادارے کلیدی ہتھیار ہیں۔تقریب کے آخر میں پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار نے شکریہ ادا کیا، شرکاء کی تصویر اور ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی نے میڈیا سے بات چیت میں کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور زرعی تحقیق، تعلیم، طبی سائنس، سمندری علوم اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ علم اور جدت کو اسلامی دنیا میں پائیدار ترقی کے لیے بنیادی قرار دیا۔مجموعی طور پر اجلاس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اشتراک ہی خطے کے نوجوانوں کو مواقع فراہم کر کے طویل المدت سماجی و معاشی فوائد دے سکتی ہے۔ یہ مکالمہ مستقبل میں عملی شراکتوں اور پالیسی تجاویز کی بنیاد بننے کا عندیہ دیتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے