اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو کے ایک رہائشی گھر میں گھریلو گیس لیکج کے باعث دھماکے میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہو کر اسپتال منتقل کیے گئے۔ دھماکے سے کم از کم چار گھر متاثر ہوئے اور کئی افراد ملبے تلے دب گئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے نکال کر طبی امداد کے لیے منتقل کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اُن کے بقول متاثرہ گھروں سے مجموعی طور پر سولہ افراد کو نکالا گیا جن میں سے آٹھ کی اموات ہوئی ہیں۔ اموات میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے تصدیق کی کہ سیکٹر جی سیون ٹو میں گھریلو گیس دھماکہ کی وجہ سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور دیگر زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پی ایمز ہسپتال کو واقعے کے بعد الرٹ کر دیا گیا ہے اور زخمیوں کی طبی حالت کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ اقدامات کر رہی ہے۔کیپٹل ایمرجنسی سروس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ گھر کے ایک سی ڈی اے ملازم کی گزشتہ روز بارات رہی تھی جو رات دیر گئے گجرات سے واپس پہنچی۔ شادی والے گھر کی وجہ سے ہیٹر رات بھر جلتا رہا اور لوڈشیڈنگ کے باعث ہیٹر بند ہونے پر گھروں کی تنگ گلیوں میں گیس جمع ہو گئی۔ صبح کے وقت ناشتے کے لیے جب خواتین نے سلنڈر جلا کر استعمال شروع کیا تو دھماکہ ہوگیا، جس نے گھروں کو شدید متاثر کیا۔ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق خود موقع پر موجود ہیں اور جاری ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں اور متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر کارڈن کر دیا گیا ہے۔راسرِی ذرائع کے مطابق ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد واقعے کی وجوہات کا تفصیلی تعین کیا جائے گا۔ عوام سے تاکید کی گئی ہے کہ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور متاثرہ علاقے میں بلا وجہ داخل ہونے سے گریز کریں تاکہ امدادی کام متاثر نہ ہوں۔
