ایران کی کشیدہ صورتحال اور پاکستان کی حکمتِ عملی

newsdesk
2 Min Read
اسلام آباد میں گول میز گفتگو میں ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، خطے پر اثرات اور پاکستانی پالیسی کے ممکنہ راستوں پر مفصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد: انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، کے ذیلی مرکز Centre for Afghanistan, Middle East and Africa نے “ایران کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کی پالیسی کا ردِعمل” کے موضوع پر ایک گول میز مذاکرہ منعقد کیا جس میں سابق سفارت کاروں، ممتاز ماہرینِ تعلیم اور پالیسی امور سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

مذاکرے میں شرکاء نے ایران کی موجودہ صورتحال، اس کے خطے پر اثرات اور پاکستان کی موجودہ و مستقبل کی پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

شرکاء نے زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی مکالمے اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے اور پاکستان کے سلامتی و خارجہ پالیسی کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔ اس موقع پر یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں پاکستان خطے میں سفارتی رابطوں کے فروغ اور استحکام کے لیے ممکنہ ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔

مذاکرہ چیتھم ہاؤس رول کے تحت منعقد کیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے