ریاض میں منعقدہ ملاقات میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ اور سعودی ٹیلی کام کمپنی کے حکام نے دو طرفہ کاروباری تعلقات اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات کا محور پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے حوالے سے تھا جس میں سرمایہ کاری کے مواقع خاص اہمیت اختیار کر گئے۔مذاکرات میں سعودی کمپنی کی اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ وہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی سب سے بڑی ٹیلی کام آپریٹر کے طور پر ملک کے ویژن ۲۰۳۰ کے ڈیجیٹل ایجنڈے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اسی پس منظر میں پاکستان کے ساتھ شراکت پر غور کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے متصل پاکستان ۲۰۳۰ پالیسی کے تحت ممکنہ شراکت داری کے فریم ورک پر بات کی، تاکہ دونوں جانب سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں۔فریقین نے خصوصاً فائبر نیٹ ورک کی توسیع، کلاؤڈ سروسز، سائبر سکیورٹی اور فِن ٹیک کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی تکنیکی صلاحیت اور مارکیٹ کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش قرار دیتے ہوئے ملاقات میں بتایا گیا کہ ملک کی آئی ٹی برآمدات ۳٫۸ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور صارفین کی تعداد بیس کروڑ کے قریب ہے، جو بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کے لیے اہم اپیل ہے۔فِن ٹیک کے شعبے میں کم لاگت کراس بارڈر ادائیگیوں کے نظام اور دیگر مالیاتی اختراعات پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں اطراف نے تکنیکی شراکت اور پائلٹ پروجیکٹس کی تجاویز پیش کیں تاکہ روزمرہ کاروبار میں تیز، سستا اور محفوظ ادائیگی کا نظام متعارف کروایا جا سکے۔ اس گفتگو میں سرمایہ کاری کے مواقع کے عملی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی۔پاکستان کے مقام کو ریجنل ٹرانزٹ حب مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقین نے خطے میں کنیکٹوٹی بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ خلیجی، ایشیائی اور افریقی بازاروں کو جوڑنے میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی گئی اور اسی تناظر میں سب میرین کیبلز اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی منصوبوں میں شراکت داری کے مواقع زیرِ غور آئے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اقدمات کے لیے تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دینے اور جلد از جلد مفاہمت کی یادداشت پر کام شروع کرنے کی تجویز سامنے آئی تاکہ جلد اثر دکھانے والے پراجیکٹس پر عمل درآمد کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع قابلِ عمل بن سکیں۔
