اسلام آباد میں حج کمپلیکس میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کے تناسب سے حج کوٹہ حج کوٹہ دو لاکھ تیس ہزار تک بڑھانے کیلئے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے جاری ہیں اور ان کے بقول قوی توقع ہے کہ دیگر ممالک کے کوٹے میں اضافے کے ساتھ پاکستان کو بھی خاطر خواہ حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات اور وفاقی کابینہ سے منظور شدہ حج پالیسی دو ہزار چھبیس کے تحت تمام انتظامات سعودی ٹائم لائن کے مطابق بروقت مکمل کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ لاہور ایئرپورٹ کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ عازمین حج کی دوہری امیگریشن پاکستان میں مکمل ہو سکے اور سعودی ایئرپورٹس پر قطاروں میں کھڑے رہنے کی بجائے براہ راست بسوں کے ذریعے اپنے رہائشی مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ اس سہولت سے اس سال اسلام آباد ائیرپورٹ سے اڑتیس ہزار سے زائد عازمین فائدہ اٹھائیں گے جبکہ پشاور کے عازمین بھی اسلام آباد سے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری حج سکیم کے تحت ایک لاکھ بیس ہزار عازمین کو دو اقساط میں ادائیگی کی سہولت دی گئی تھی جس پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا۔ اسی طرح پرائیویٹ حج سکیم میں اصلاحات پر کام جاری ہے تاکہ نجی شعبے کے ذریعے جانے والے حجاج کو معقول پیکیج اور بہتر سہولیات میسر ہوں۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ پاکستان کا حج پیکیج پڑوسی ممالک کے مقابلے میں اب بھی سستا اور معیاری ہے۔گزشتہ برسوں کے مقابلے میں شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور سعودی حکومت نے بہترین انتظامات پر پاکستان کو اعزاز سے سرفراز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حج دو ہزار پچیس کے بعد شکایات میں ستر فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور اس سال مزید کمی لانے کو ہدف بنایا گیا ہے۔ مزید برآں سرکاری عملے کا نام تبدیل کر کے دوبارہ "خدام الحجاج” کر دیا گیا ہے تاکہ اس خدمت کے روحانی اور روایتی پہلو کو اجاگر کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ العزیزیہ اور مکہ القریش میں سرکاری حجاج کے لیے مساوی سہولیات والی عمارات حاصل کی گئی ہیں اور تربیتی پروگرام کا دوسرا مرحلہ رمضان کے بعد شروع ہوگا جس میں ویکسینیشن، ضوابط اور دیگر ضروری امور کی تفصیلی رہنمائی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے بائیس نکاتی رہنما اصول تیار کیے ہیں جن پر عمل کرنے سے مناسک میں آسانی رہے گی۔عازمین کے لیے ہدایت دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حج ایک آزمائش ہے اور صبر و تحمل ضروری ہے، حرمین شریفین کے قوانین اور ضوابط کا خاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض افراد طواف یا روضہ رسول ﷺ کی زیارت کے دوران موبائل فون پر تصویریں یا ویڈیوز بناتے ہیں جس سے عبادت کا روحانی مقصد متاثر ہوتا ہے۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینے میں دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں کیونکہ دور سے سلام کرنا بھی مسنون عمل ہے۔
