سید عمران احمد شاہ کا یونیورسٹی برائے جدید زبانیں کا دورہ

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزیر نے یونیورسٹی میں پاکستان بیت المال کے تعلیمی وظائف، شفافیت اور طبی امداد میں اضافے کی تفصیلات اپنی گفتگو میں بتائیں

وفاقی وزیر برائے غربت زدگی خاتمہ و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے یونیورسٹی برائے جدید زبانیں اسلام آباد کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں پاکستان بیت المال کے ذریعے فراہم کی جانے والی تعلیمی امداد کی تقسیم، شفافیت اور افادیت کے بارے میں معلومات شیئر کیں۔ وزیر نے واضح کیا کہ یہ پروگرام سماجی تحفظ کے اہم ستون کے طور پر کام کر رہا ہے اور تعلیمی وظائف کے ذریعے پسماندہ گھرانوں کے طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔وزیر نے بتایا کہ پاکستان بیت المال کے تحت انفرادی مالی معاونت برائے تعلیم کے پروگرام کے آغاز کے بعد سے مجموعی طور پر ۷۵ ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیمی امداد فراہم کی جا چکی ہے اور اس پر دو ارب روپے سے زائد اخراجات ہوئے ہیں، جس سے پسماندہ طلبہ کی تعلیمی راہ میں رکاوٹیں کم ہوئی ہیں۔ تعلیمی وظائف نے معاشی طور پر کمزور طلبہ کی تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت موجودہ حکومت نے تعلیمی وظائف میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ مالی سال جولائی ۲۰۲۴ تا جون ۲۰۲۵ کے دوران ۸۰۵۹ طلبہ کو مجموعی طور پر تقریباً ۲۹ کروڑ روپے سے زائد کی مالی مدد فراہم کی گئی جبکہ جولائی ۲۰۲۵ تا فروری ۲۰۲۶ کے عرصے میں ۵۵۱۹ طلبہ میں تقریباً ۲۰ کروڑ روپے کی تقسیم ریکارڈ کی گئی۔ یہ اقدامات تعلیمی وظائف کے دائرہ کار اور رسائی میں اضافے کا ثبوت ہیں۔وزیرِ اعظم کے احکامات کے مطابق پاکستان بیت المال کے تحت ہر طالب علم کے لیے سالانہ امداد کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جس سے مستحق طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ وزیر نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو دیکھتے ہوئے تعلیمی وظائف کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان فائدہ اٹھا سکیں۔یونیورسٹی مخصوص اعداد و شمار بھی شیئر کیے گئے جن کے مطابق دو ہزار آٹھ سے دو ہزار چوبیس تک یونیورسٹی برائے جدید زبانیں کے ۶۷۳۹ طلبہ کو پاکستان بیت المال کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً ۲۴ کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ موجودہ مالی سال ۲۰۲۵–۲۶ میں اب تک ۱۷۱ طلبہ کو تقریباً ۹۰ لاکھ روپے کی امداد دی جا چکی ہے، جو امدادی عمل کی تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے مؤکد کیا کہ ریاست کی ذمہ داری محض فیس کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی طالب علم کی تعلیمی راہ مالی مشکلات کی وجہ سے منقطع نہ ہو۔ اسی تناظر میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال کے طبی امداد پروگرام کے تحت سنگین بیماریوں سے متاثر اور علاج کے لیے مالی وسائل نہ رکھنے والے مستحق طلبہ کو بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے اور فی مریض امدادی حد دس لاکھ روپے سے بڑھا کر پندرہ لاکھ روپے کر دی گئی ہے تاکہ بروقت اور مؤثر طبی علاج ممکن ہو سکے۔وزیر نے یہ بھی عرض کیا کہ پاکستان بیت المال اور یونیورسٹی کے درمیان فروری ۲۰۲۳ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہر سال کم از کم ۲۵۰ طلبہ کو تعلیمی وظائف دیے جانے کا اہتمام ہے، جو یونیورسٹی میں تعلیم کی بقا کے لیے ایک مستحکم معاونت ہے۔ حکومت نے زور دیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کا جائزہ محض اخراجات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی اثرات کے حوالے سے لیا جائے تاکہ امداد واقعی سب سے زیادہ مستحق طبقوں تک پہنچ سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے