اسلام آباد، ۱۳ نومبر — انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی طلبہ کی اسناد کے برابر قرار دینے کی فیس معاف کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری شدید انسانی بحران اور وہاں کے خاندانوں کے سنگین اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ فلسطینی طلبہ کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں۔کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مظلوم فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا آیا ہے اور بچوں کی تعلیم کو سہولت فراہم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد فلسطینی طلبہ کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا اور مالی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو بغیر خلل کے جاری رکھ سکیں۔انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاہ نے بتایا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں یہ مطابقت فیس معافی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ تعلیم نے فلسطینی بچوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے خصوصی ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ داخلہ اور دیگر عمل میں درپیش دشواریوں کو جلد حل کیا جا سکے۔ڈاکٹر غلام علی ملاہ نے کہا کہ مشکل حالات میں تعلیم نوجوان نسل کو مضبوط کرتی ہے اور انہیں بہتر مستقبل کی طرف گامزن کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر ممکنہ تعلیمی تعاون فراہم کرتا رہے گا تاکہ فلسطینی طلبہ کو مشکل وقت میں بھی تعلیمی مواقع میسر رہیں۔انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے مطابق فلسطینی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا پاکستان کے اصولی موقف اور انسانی اقدار کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اس اقدام کا مقصد فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ دیرپا تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
