ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں شدید کرپشن اور قیادت کی لڑائی

4 Min Read

ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں اعلیٰ افسران کی شدید محاذ آرائی، کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات منظر عام پر

ندیم تنولی


ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) ایک سنگین تنازع کا شکار ہو گئی ہے جہاں سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عائشہ خان اور وائس چانسلر شہزاد علی خان کے درمیان شدید محاذ آرائی نے ادارے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دونوں جانب سے کار چوری، جسمانی تشدد، دھوکہ دہی اور کروڑوں روپے کی خوردبرد کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ تنازع اکیڈمی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور وزارت صحت کو فوری، شفاف انکوائری کا حکم دینا چاہیے تاکہ ادارے کو مزید بدنامی سے بچایا جا سکے۔

تازہ ترین پیشرفت میں، ایچ ایس اے کے چیف لیگل ایڈوائزر اے عمار سہری نے ڈاکٹر عائشہ خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری استعمال کے لیے دی گئی سفید رنگ کی ایم جی زیڈ ایس گاڑی (رجسٹریشن نمبر GAK-880 ICT، ماڈل 2021) غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھی اور بار بار تنبیہ کے باوجود واپس نہیں کی۔

ڈاکٹر عائشہ کے قریبی حلقوں نے اس الزام کو ’’انتقامی مہم‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق انہوں نے یہ گاڑی 22 جولائی کو، کار چوری کی ایف آئی آر سے انیس دن قبل، خواتین تھانہ چک شہزاد میں جمع کروا دی تھی۔ گاڑی کی واپسی اس وقت ہوئی جب انہوں نے 17 جولائی کو وائس چانسلر شہزاد علی خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرایا، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے انہیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، چہرے پر زخم پہنچائے اور شادی کے جھانسے میں دھوکہ دیا۔ ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ اسی روز وائس چانسلر مصالحت کی کوشش میں مذکورہ گاڑی ان کے گھر لائے اور خود دوسری گاڑی میں واپس چلے گئے۔

دوسری جانب، شہزاد علی خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عائشہ نے ایچ ایس اے کے منصوبوں کے فنڈز سے کروڑوں روپے کی خوردبرد کی اور وائس چانسلر پر جھوٹے الزامات لگا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول ڈاکٹر عائشہ نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر اپنی مبینہ بدعنوانیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ تاہم ڈاکٹر عائشہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ نظام میں موجود کرپشن کے خلاف ڈٹ جانے اور مالی بے ضابطگیوں کو چھپانے سے انکار کرنے کی وجہ سے نشانہ بن رہی ہیں۔

یہ تنازعہ ادارے کے اندر تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے اور ایچ ایس اے کو ’’ادارہ جاتی بقا کی جنگ‘‘ میں دھکیل رہا ہے۔ ہیلتھ سیکٹر کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وزارت صحت کو فوری مداخلت کرتے ہوئے غیر جانبدار انکوائری کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ادارے کی ساکھ بحال ہو۔

دونوں ایف آئی آرز پر تحقیقات جاری ہیں اور شعبہ صحت سے وابستہ حلقے اس قانونی جنگ کے نتائج کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یہ تنازع حقیقی احتساب کی راہ ہموار کرے گا یا ایک اہم قومی ادارے پر اعتماد کو مزید کمزور کر دے گا۔

Daily Peal Point Link: Health Services Academy Faces Worst Crisis Amid Bitter Feud at the Top   – Peak Point
Daily Minute Mirror Link: Health Services Academy in crisis amid leadership feud - Minute Mirror
1

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے