وفاقی حکومت نے سروائیکل کینسر کے خلاف ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسینیشن مہم کا باضابطہ آغاز کیا ہے، جسے وفاقی ڈائریکٹوریٹ برائے حفاظتی ٹیکہ کاری (ایف ڈی آئی) نے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا؛ مہم کے پہلے مرحلے میں نو سے چودہ سال تک کی لڑکیوں کو پنجاب، سندھ، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔
یہ مہم وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال کی قیادت میں شروع کی گئی اور اسے ملک میں سروائیکل کینسر کے خاتمے اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد کے تحت ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ ایف ڈی آئی نے اس اقدام کو قومی سطح پر عوامی صحت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک کلیدی پیش رفت کہا ہے۔
پہلے مرحلے میں ٹارگٹ گروپ نو تا چودہ سال کی عمر کی لڑکیاں ہیں جو مخصوص صوبوں اور علاقوں میں ویکسینیشن کی غرض سے شامل کی جائیں گی۔ اس عمل کو ملک گیر پروگرام کے تناظر میں وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ وقت کے ساتھ تمام ہدفی آبادی تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
آغازِ تقریب میں وفاقی سیکریٹری صحت حامد یعقوب شیخ، وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر عائشہ اسانی مجید، ڈاکٹر صوفیہ یونس، ضلعی ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر سیدہ رشیدہ بتول، عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ لو ڈاپِنگ، یونیسف کی نمائندہ پرنیلے آئرن سائیڈ، سی ڈی سی سے ڈاکٹر رانا محمد صفدر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سلمان، این ای او سی کے ڈاکٹر الطاف بوسان اور دیگر معزز نمائندگان نے شرکت کی اور مہم کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ قومی سطح کی مہم یونیسف، عالمی ادارہ صحت (WHO)، جھپیگو اور دیگر شراکت دار تنظیموں کی معاونت سے نافذ کی جا رہی ہے، جس سے صحتِ عامہ کے فروغ میں بین الاقوامی اور قومی سطح پر شراکتِ عمل کی افادیت نمایاں ہوتی ہے۔ شراکت دار اداروں نے ویکسینیشن کے نفاذ، تربیت اور مانیٹرنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مہم کے ذریعے سرطانی سروائیکل کے خلاف حفاظتی تحفظ کو موثر انداز میں پھیلانے اور مستقبل میں بیماری کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مہم کا نعرہ ‘‘صحت مند بیٹی، صحت مند گھرانہ’’ ہے اور اسے ملک بھر میں لڑکیوں کی صحت اور فلاح کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
