ہر ضلع میں اعلیٰ طبی و تعلیمی ادارے قائم کریں

newsdesk
5 Min Read
بلاول نے ایم بی بی یو لارکانا میں کہا کہ صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہیں اور ہر ضلع میں معیاری ادارے قائم کیے جائیں گے

بلاول بھٹو زرداری نے بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لارکانا کے اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کے دوران کہا کہ ہر ضلع میں عالمی معیار کے طبی اور تعلیمی ادارے قائم کرنا ان کی حکومت کا واضح وژن ہے اور صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔انہوں نے طبی عملے اور پیرامیڈکس کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ طبی پیشہ وران سندھ حکومت کے جدید عوامی نظامِ صحت کے ساتھ ہم آہنگ رہیں اور شہریوں کے حقِ حیات، وقار اور ہمدرد طبی دیکھ بھال کے دفاع میں آگے رہیں۔ بلاول نے یونیورسٹی کے نام کو محض یاد نہیں بلکہ ایک وعدہ قرار دیا اور کہا کہ یہ وعدہ ہمت، ہمدردی اور انسانی وقار میں ایمان کا مظہر ہے۔وہ شہید بینظیر بھٹو کے وژن کو دہراتے ہوئے کہنے لگے کہ جب بینظیر بھٹو صحت کی بات کرتی تھیں تو وہ انصاف کی بات کر رہی ہوتی تھیں کیونکہ کسی معاشرے کا طبی لحاظ سے محروم رہ جانا اس کی شہریوں سے ان کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔ فارغ التحصیل ڈاکٹروں سے خطاب میں بلاول نے لارکانا کو ناانصافی کے خلاف مزاحمت اور عوامی خدمت کے جذبے کا شہر قرار دیا اور طبی تعلیم حاصل کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ غریب مریض، پریشان والدہ یا نظر انداز بچوں سے کبھی دور نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کے بعد پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے عوامی صحت کو اولین ترجیح دی اور اس شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ دو ہزار پندرہ میں امراضِ قلب کے ایک بڑے ادارے کے صوبے کے تحت آنے کے بعد اس ادارے نے امراضِ قلب کے علاج میں بین الاقوامی معیار قائم کر دیا۔ سندھ حکومت نے یورولوجی اور ٹرانسپلانٹ کے ادارے کے ساتھ شراکت کر کے اس کی شاخیں مختلف اضلاع تک پھیلائیں، سکھر اور کراچی میں مراکز فعال ہیں اور حال ہی میں نئی عمارت کا افتتاح بھی کیا گیا جس میں ڈاکٹر اديب رضوی کے بے لوث انتھک کام کا ذکر کیا گیا۔قومی ادارہ برائے صحتِ اطفال نے بھی صوبائی اقدامات کے باعث خدمات میں وسعت پائی ہے؛ پہلے یہ ایک وفاقی ادارہ تھا مگر اب کراچی میں چار مراکز فعال ہیں اور نوابشاہ، جامشورو، سکھر اور لارکانا میں بچوں کے علاج اور آئی سی یو کی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ بچوں کے ایمرجنسی کمرے اور ایمرجنسی سروسز چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ پبلک پرائیویٹ شراکت کے ذریعے تمام اضلاع میں قائم کی گئی ہیں اور سندھ حکومت کا عزم ہے کہ صحت اور تعلیم کے اعلیٰ معیار کے ادارے ہر ضلع تک پہنچیں۔بلاول نے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گمبٹ اسپتال اپنی جدید سہولیات کی وجہ سے بڑے شہروں کے معیاری ہسپتالوں سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بہتری کے لئے مزید اقدامات درکار ہیں اور تاریخی حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قیام سے قبل سندھ میں صرف ایک یونیورسٹی تھی، انتیس چالیس نوے نو، ان الفاظ کی جگہ تاریخی ڈیٹا کے مطابق وہ بتاتے ہیں کہ ۱۹۴۷ سے ۲۰۰۸ کے دوران سولہ یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور دو ہزار آٹھ کے بعد یہ تعداد تیس تک پہنچ گئی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں کمی کے بعد سندھ واحد صوبہ رہا جس نے جامعات کی مالی معاونت جاری رکھی۔ صوبائی مقصد یہ ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی کیمپس اور ترجیحاً مکمل یونیورسٹی ہو تاکہ دور دراز نوجوان بھی صحت اور تعلیم کے بہتر مواقع سے مستفید ہوں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے