۲۳ فروری ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ڈاکٹر محمد زئیم ضیاء، چیف ایگزیکٹو، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے لیبارٹریوں کے انتظامی سربراہان سے براہِ راست گفت و شنید کی۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے کی جاری پالیسیوں اور خصوصاً رجسٹریشن و لائسنسنگ کے عمل کے ڈیجیٹل کاری اقدام پر تفصیلی بریفنگ دی اور لیبارٹریز کو ڈیجیٹل رجسٹریشن اپنانے کی تلقین کی تاکہ شفافیت، کارکردگی اور عوام کے لیے سہولت یقینی بنائی جا سکے۔ڈاکٹر ضیاء نے بتایا کہ معائنوں کے لئے ایک منظم طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے اور معائنہ ٹیمیں جسم پر لگائے جانے والے کیمروں کے ساتھ فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ ۲۱ دنوں میں اتھارٹی کی ٹیموں نے تقریباً ۹۰۰ صحت کے اداروں کا دورہ کیا، سو سے زائد جعلی طبی مراکز کو سیل کیا گیا اور ۱۳۵ نفاذی و شکایتی مقدمات میں سماعتیں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تربیت یافتہ معائنہ کاروں کا ایک پول حتمی شکل دے کر جلد فیلڈ میں متعارف کرایا جائے گا تاکہ معائنوں کی مضبوطی اور معیار کی تضمین ہو سکے۔اجلاس میں شرکاء کو مطلع کیا گیا کہ لیبارٹریوں کے لئے کم از کم خدمات کی فراہمی کے معیارات منظوری کے مراحل طے کرچکے ہیں اور نوٹیفکیشن عنقریب جاری کیا جائے گا، جس پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہوگا۔ اتھارٹی نے عوام کے مفاد میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی قیمتوں میں مناسب ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاہم اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ قیمت میں کمی سے معیار متاثر نہیں ہونا چاہیے۔کھلے فورم میں لیبارٹری نمائندگان نے درپیش مسائل اور مشکلات کا تذکرہ کیا اور کئی امور پر براہِ راست گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر ضیاء نے متعدد مسائل فوراً دور کیے اور باہمی مکالمے کے ذریعے حل پیش کیے گئے، جس پر نمائندگان نے ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک پیشہ ورانہ اور معاون ادارہ قرار دیتے ہوئے سراہا اور معیار سے سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس اجلاس نے ڈیجیٹل رجسٹریشن اور معائنہ کے جدید طریقوں کے ذریعے طبی خدمات کے معیار کو بلند کرنے اور عوام کو محفوظ سروسز فراہم کرنے کے عزم کو مضبوط کیا۔ اتھارٹی کا موقف واضح رہا کہ ضابطے نہ صرف نافذ کیے جائیں گے بلکہ سہولت کاری کے ذریعے فریقین کو تعاون کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی تاکہ قومی سطح پر صحت کی خدمات کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔
