صحت ڈائریکٹر نے بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری یقینی بنانے کا عزم

newsdesk
3 Min Read
ڈاکٹر عبدالجبّار نے پنجاب کے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ کاری پہنچانے اور سول سوسائٹی کے ساتھ شراکت کے پہلے جائزے پر زور دیا۔

ڈاکٹر عبدالجبّار نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے کا محفوظ، صحت مند اور بیماریوں سے پاک زندگی کا حق ہے اور پنجاب میں حفاظتی ٹیکہ کاری کی سہولیات سے کسی کو محروم نہیں رہنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ لگوانے کے فوائد پورے صوبے میں یکساں طور پر پہنچانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رہیں گے اور یہ کام کسی بھی طبقے یا علاقے کو نظر انداز کیے بغیر کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری اور غیرسرکاری شعبے کے درمیان رکاوٹیں عبور کر کے سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ شراکت نے کمیونٹی سطح پر خدمات کی فراہمی میں نئے دور کا آغاز کیا ہے، جس کے براہِ راست فائدہ بچے حاصل کر رہے ہیں۔ اس شراکت کا مقصد حفاظتی ٹیکہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلب میں اضافہ اور سروس کی ہم آہنگی ہے تاکہ سہولیات دیرپا اور موثر طریقے سے فراہم ہوں۔پنجاب میں سول سوسائٹی شراکت کے پہلے جائزے میں مختلف تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر محترمہ حما خاور بطور نمائندہ، ڈاکٹر ارتضا چودھری نے ٹی جی ایف کی جانب سے شرکت کی اور سول سوسائٹی اقدام کے فوکل پرسن سجاد حفیظ بھی موجود تھے۔ شرکاء نے مشترکہ حکمتِ عملی اور عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تاکہ حفاظتی ٹیکہ کاری کے اہداف کو مکمل کیا جا سکے۔جائزے کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ گیوی کے اشتراک سے چلنے والا ماڈل شہری بستیوں، پسماندہ اور محروم علاقوں میں ٹیکہ کاری کی کوریج کے خلاؤں کو پُر کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ سول سوسائٹی تنظیمیں مقامی رابطہ کاری، بیداری مہمات اور خدمت رسانی کے مربوط اہداف پر عمل پیرا ہو کر عوام تک رسائی بڑھا رہی ہیں۔پروگرام میں شریک تنظیموں کے ٹیم لیڈرز جن میں اگاہے، ریڈز اور رہنما شامل تھے، نے اپنے تجربات اور مئثر طریقہ کار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مقامی سطح پر اعتماد سازی اور معلوماتی مہمات نے حفاظتی ٹیکہ کاری میں مثبت نتائج دکھائے ہیں۔ اس موقع پر حفاظتی ٹیکہ کاری کو تیز اور مساوی بنانے کے مزید اقدامات پر اتفاق رائے سامنے آیا۔صحت کے محکمے کی اس کاوش کا محور یہی ہے کہ حفاظتی ٹیکہ کاری کے ذریعے بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور ہر بچے تک یہ خدمات پہنچانا ہے، اور اس مقصد کے لیے سرکاری اور سول سوسائٹی کا یکجہتی انداز مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ہر علاقے میں بچوں کی صحت کی بنیادی ضروریات پورے ہوں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے