نوجوان انجینئرز کی بڑی تعیناتی

newsdesk
2 Min Read
پاکستان انجینئرنگ کونسل کا گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام ۶۰۰ نوجوان انجینئرز کو سرکاری و نجی اداروں میں ہاؤس جاب نما تربیت کے ساتھ تعینات کر رہا ہے۔

پاکستان بھر کے اہم سرکاری اور نجی اداروں میں ۶۰۰ نوجوان انجینئرز کی تعیناتی نے انجینئرنگ شعبے میں عملی قوت بڑھانے کی سمت ایک واضح قدم اٹھا دیا ہے۔ یہ تعیناتی قومی سطح پر زیرِ بحث رہی اور اسے پالیسی کو عملی شکل دینے کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام پاکستان انجینئرنگ کونسل کی قیادت میں چلنے والے گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام کے تحت عمل میں آیا ہے، جو مکمل طور پر کونسل کی مالی معاونت پر مبنی ہے اور ہاؤس جاب نما تربیتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ پروگرام کا مقصد تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان خلیج کم کرنا اور نئے فارغ التحصیل انجینئرز کو عملی تجربہ دینا ہے۔
پروگرام میں شامل تربیتی عناصر اور عملی تعیناتی کا ماڈل اس لیے اہم ہے کہ اس سے گریجویٹ سطح کے امیدواروں کو عملی مہارتیں حاصل ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر وہ روزگار کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنتے ہیں۔ گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام نے نوجوانوں کو حقیقی کام کے ماحول میں سیکھنے اور اداروں کے ساتھ براہِ راست ربط قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
یہ قدم محض تعلیمی بیانیے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی مضبوطی اور نوجوانوں پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ۶۰۰ تعیناتیاں ایک واضح اشارہ ہیں کہ اصولی پالیسیاں زمین بوس ہو کر عملی سرمایہ کاری میں تبدیل ہو رہی ہیں اور اس سے ملکی انسانی سرمایہ مضبوط ہوگا۔
اس پروگرام سے نہ صرف انجینئرنگ کے شعبے میں اہل افرادی قوت میں اضافہ ہوگا بلکہ طویل مدتی طور پر صنعت و معیشت کو فائدہ پہنچانے کی توقع بھی وابستہ ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات پالیسی سازوں اور تعلیمی اداروں کے مابین اشتراک کو فروغ دیتے ہیں اور نوجوان پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عملی میدان میں آزماتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے