حکومت اور صنعتی برادری نے آڑان پاکستان پروگرام کے تحت مشترکہ حیثیت میں اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کیے اور اس موقع پر صنعت اور چینمبر قیادت نے شرکت کی۔تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر سردار طاہر، نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارو جدون اور چئیرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین سمیت مختلف صنعتی رہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ شرکاء نے کہا کہ اس ایم او یو کے ذریعے حکومت اور صنعت ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔معاہدے کے تحت حکومت اور صنعت مل کر دو ہزار سترچالیس تک ملک کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ویژن کو عملی جامعہ پہنائیں گے۔ اس مقصد کے لیے آڑان پاکستان پروگرام کی راہنمائی میں برآمدی نمو کو فروغ دیا جائے گا اور ہر ضلع کے لیے علیحدہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ پلان تیار کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعتیں ایکسپورٹ بازاروں تک منظم انداز میں پہنچ سکیں۔صدر عاطف اکرام شیخ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آڑان پاکستان پروگرام پائیدار ترقی، برآمدات میں اضافے اور معاشی بحالی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسی تعاون کی بدولت ملک کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرے سے نکالا گیا۔ صنعت کی بحالی کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں اور ان میں سستی توانائی، ٹیکس میں کمی اور شرح سود میں کمی شامل ہو سکتی ہے؛ ان کے بقول بجلی کی قیمت آٹھ سینٹ، ٹیکسز میں کمی اور شرح سود سات فیصد ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سابقہ دور میں معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچی تھی اور بروقت مداخلت سے ملک کو داخلی طور پر ڈیفالٹ سے بچایا گیا ورنہ چند ہفتوں میں بیرونی ڈیفالٹ کا خطرہ بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے اور بین الاقوامی حلقے آج پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف کر رہے ہیں اور حکومت کا عزم ہے کہ ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت بنایا جائے۔شرکاء نے اس معاہدے کو پبلک پرائیوٹ شراکت کے فروغ اور صنعتی سرگرمیوں کی تیز واپسی کے سنگ میل کے طور پر دیکھا۔ آڑان پاکستان کے تحت عملی اقدامات، صوبائی و ضلعی ایکسپورٹ پلان اور نجی شعبے کے ساتھ مربوط پالیسیاں اس معاہدے کے فوری نکات میں شامل ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
