حکومتی کالج فیصل آباد میں حیاتیاتی دفاع کا سمینار

newsdesk
3 Min Read
پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری نے حکومتی کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں حیاتیاتی دفاع اور ادویاتی تحقیق پر زور دیتے ہوئے مہارت اور تعاون کی ضرورت بتائی۔

پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری او آئی سی کومس ٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کے طور پر حکومتی کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ قومی سمینار میں مہمانِ خصوصی تھے۔ یہ سمینار اسی یونیورسٹی کی حیثیت سے منعقد ہوا جو کومس ٹیک کنسورشیم برائے برتری کا رکن ادارہ بھی ہے۔ پروگرام میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ممتاز سائنسدان، تحقیقی ماہرین اور ماسٹرز سمیت اعلیٰ درجے کے تحقیقاتی طلبہ نے شرکت کی۔تقریب میں جدید بایومیڈیکل ایجادات، جدید ادویاتی ترقی کے طریقے اور اسی کے ساتھ حیاتیاتی دفاع اور حیاتیاتی حفاظت کے ابھرتے ہوئے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں ملک کی صحت کے تحفظ کے لیے علمی تیاری اور جدید تحقیق لازمی ہیں۔ اسی بحث میں حیاتیاتی دفاع کے وہ پہلوؤں پر زور دیا گیا جن میں نظامِ تشخیص، وبائی ردعمل اور بایوسیکیورٹی شامل ہیں۔اپنے مرکزی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر چودھری نے بین الشعبہ جاتی تعاون، جدید تحقیق اور صلاحیت سازی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ بایوٹیکنالوجی، مالیکیولی تشخیص اور جدید ادویہ سازی کے اوزار قومی تحقیقی ترجیحات کا مرکز رہنے چاہئیں تاکہ ہم بدلتے ہوئے حیاتیاتی خطرات سے نمٹ سکیں۔ اس تناظر میں حیاتیاتی دفاع کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔تقریب کے دوران شرکاء نے نوجوان سائنسدانوں کی تربیت، تحقیقی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کی بحالی پر بھی بات کی۔ مختلف سیشنز میں عملی تحقیق کے تجربات، ادویاتی ترقی کے جدید طریقے اور حیاتیاتی حفاظت کے معیار پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، جس سے شمولیت کرنے والوں کو مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے راہِ نماء ملنے کی توقع ظاہر کی گئی۔میزبان ادارے نے اس قسم کے پلیٹ فارمز کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی محافل تحقیق و تربیت کے ذریعے ملک میں تحقیقی قدر اور سائنسی خودمختاری میں اضافہ ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر چودھری نے اختتامی کلمات میں کہا کہ مضبوط تحقیقی تعاون اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعے ہی ہم اپنے طبی اور حفاظتی نظام کو بااثر بنا سکتے ہیں، اور اسی سلسلے میں حیاتیاتی دفاع کو قومی سطح پر اولین ترجیح دینی ہوگی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے