لڑکیوں کی تعلیم میں نمایاں پیش رفت

newsdesk
4 Min Read
نئی رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم میں واضح بہتری، پرائمری تکمیل ۸۹ فیصد، بنیادی سہولیات بہتر مگر غذائی قلت اور نظامی خامیاں موجود

وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کی موجودگی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں شائع ہونے والی "گرلزم ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس اینڈ ٹرینڈز ۲۰۲۳–۲۴” رپورٹ نے ملک میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق نمایاں اعداد و شمار سامنے رکھ دیے۔ رپورٹ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، ملالہ فنڈ، پیج اور وزارتِ تعلیم کے مشترکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے اور تقریب میں وزیر مملکت واجیہ قمر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز، سینیٹر فوزیہ، ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد شاہد سورویا اور متعدد شراکتی اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔رپورٹ میں اسکولی انفراسٹرکچر کے حوالے سے اہم پیمائشیں سامنے آئیں: ۹۶ فیصد اسکول مستقل عمارتوں میں قائم ہیں، ۹۲ فیصد اسکولوں میں فعال بیت الخلا موجود ہیں اور ۸۲ فیصد ادارے صاف پینے کے پانی تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بچوں میں غذائی قلت کے باعث بڑھاپے تک نشوونما میں کمی اور وزن کم رہنے کے مسائل رپورٹ میں نمایاں ہیں۔لڑکیوں کی شمولیت اور صلاحیت کے حوالے سے مثبت اشارے بھی درج ہیں؛ پرائمری اسکول کی تکمیل کی شرح پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو کر ۸۹ فیصد تک پہنچی ہے، جو پچھلے اعداد و شمار کے مقابلے میں واضح بہتری کی علامت ہے۔ اس کے باوجود نظامی کمزوریاں، وسائل کی محدودیت اور سماجی رکاوٹیں تاحال تعلیمی تسلسل میں رکاوٹ ہیں۔قومی تعلیمی جانچ ۲۰۲۳ کے نتائج کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد شاہد سورویا نے بتایا کہ طالبات نے انگریزی، اردو/سندھی اور ریاضی میں لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کلاس آٹھ میں سائنس اور ریاضی میں بھی لڑکیاں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ان نتائج کا مقصد نظامی خامیوں کی نشاندہی کرنا اور شواہد کی بنیاد پر حکمتِ عملی مرتب کرنا ہے۔رپورٹ میں شبہات اور چیلنجز بھی تفصیل سے درج ہیں: معذور بچوں کے لیے صرف ۲۳ فیصد اسکولوں میں ریمپس موجود ہیں اور خصوصی تدریسی مواد یا معاون آلات فراہم کرنے والے ادارے اور بھی کم نظر آئے۔ صرف ۲۳ فیصد اساتذہ نے بنیادی تربیت حاصل کی ہوئی ہے جبکہ صرف ۱۹ فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات موجود ہیں۔ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کا حصہ کم ہو کر ۱۳ فیصد سے ۱۱ فیصد رہ گیا ہے اور کل اخراجات کا ۹۴ فیصد تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے جس سے ترقیاتی اخراجات محدود ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک میں تقاضے بڑھنے کے باعث فی ہزار بچوں کے حساب سے اسکولوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور مجموعی طور پر تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں ایک کروڑ چونتیس لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، جو مستقل توجہ اور حکمتِ عملی کی ضرورت کا اشارہ ہیں۔وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ درست اعداد و شمار کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں اور یہ ڈیٹا آئندہ پالیسی سازی کا بنیاد بنے گا۔ انہوں نے سماجی رویوں کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کے چودہ کروڑ نوجوانوں کو ذمہ داری کے ساتھ مواقع فراہم کر کے انسانی سرمایہ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ مملکت واجیہ قمر نے رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر عملی منصوبہ بندی کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ شناخت شدہ خامیوں کے پیش نظر عملی ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ماہرین نے زور دیا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں پیش رفت کے ثبوت ملتے ہیں مگر مکمل کامیابی کے لیے بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر لانا اور پورے ملک میں ڈیجیٹل وسائل کا پھیلاؤ لازم ہے تاکہ لڑکیوں کی تعلیم کو باقاعدہ اور پائیدار بنایا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے