تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانا: غربت اور قبل از وقت شادیوں کا مؤثر حل
تحریر: ڈاکٹر عاصمہ فاطمہ مخدوم
"اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیں تو آپ ایک فرد کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیں تو آپ ایک قوم کو تعلیم دے رہے ہیں۔” — افریقی ضربِ المثل
یہ ضربِ المثل پاکستان کی موجودہ صورتحال کے بہت قریب ہے جہاں لاکھوں لڑکیوں کو ان کے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس کے خوفناک نتائج سامنے ہیں: کم عمر شادیوں کا بڑھتا رجحان، صحت کے ناخوشگوار نتائج اور نسل در نسل منتقل ہونے والی غربت کا تسلسل۔
تعلیم محض خواندگی نہیں بلکہ اختیار ہے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی وہ فیصلے کرنے کے اہل ہوتی ہے جو اسے قبل از وقت شادیوں جیسے حالات سے بچا سکیں۔ وہ باعزت ملازمت حاصل کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر سکتی ہے اور صحت مند، تعلیم یافتہ بچوں کی پرورش کر سکتی ہے۔ ایک لڑکی کی تعلیم دراصل پورے معاشرے کو اوپر اٹھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
بدقسمتی سے غربت، مضر روایات اور غیر محفوظ تعلیمی ادارے بڑے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ خاندان اکثر کم عمری کی شادیاں ایک اقتصادی حل سمجھ لیتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید نازک ہے جہاں خواتین اساتذہ کی عدم موجودگی، طویل فاصلہ اور غیر محفوظ راستے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکتے ہیں۔
راستہ واضح طور پر تیز حرکت مانگتا ہے۔ حکومت کو دیہی اسکولوں میں سرمایہ کاری، وظائف اور محفوظ نقل و حمل کے انتظامات یقینی بنانا ہوں گے۔ سماجی تنظیموں اور برادریوں کو ایسی ثقافتی روایات کو چیلنج کرنا ہوگا جو لڑکیوں کے مواقع محدود کرتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر ہمیں سمجھنا ہوگا کہ لڑکیوں کی تعلیم صدقہ نہیں بلکہ انصاف اور بنیادی انسانی حق ہے۔
لڑکیوں کو تعلیم دے کر ہم غربت کے چکر کو توڑ سکتے ہیں اور کم عمری کی شادیاں مؤخر کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں مضبوبت اور علم سے آراستہ لڑکیوں پر منحصر ہے جو قوم کی قیادت کے لیے تیار ہوں۔
