گلگت بلتستان میں مذہبی انتشار کی جگہ نہیں

newsdesk
3 Min Read
گلگت بلتستان میں مذہب کے نام پر تقسیم پھیلانے والوں کے خلاف ریاستی، قانونی اور سماجی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

گلگت بلتستان کی سرزمین پر مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ فسادات یا مذہبی انتشار کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ مقامی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی گروہ یا فرد کسی مذہبی شناخت، مسلک، ذات، برادری یا علاقہ کے نام پر نفرت اور انتشار پھیلانے کی کوشش کرے تو سخت رد عمل کا سامنا ہوگا۔ریاستی ادارے، آئینِ پاکستان اور عوامی استحکام کے خلاف چلنے والی منفی پروپیگنڈا کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چاہے وہ بیانیہ کسی بھی شکل میں ہو، مقدماتی قانونی کارروائی کے ساتھ انتظامی اور سماجی سطح پر بھی جامع اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مذہبی انتشار کے خطرات کو روکا جا سکے۔مذہبی انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کریں گے اور معاشرتی شعور اجاگر کرنے کے لیے مقامی رہنماؤں اور کمیونٹی کے ساتھ بھی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔ جھوٹ اور نفرت پر مبنی بیانیے کے خلاف شہری سطح پر نیز حکومتی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری قرار دی گئی ہیں۔گلگت بلتستان کو امن، رواداری اور قومی یکجہتی کا خطہ قرار دیا گیا ہے اور اس خطے کو انتشار، منافرت اور فرقہ وارانہ سیاست سے پاک رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ عوامی مفاد اور علاقائی استحکام کو مقدم رکھتے ہوئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ یہاں کے عوام کے حقِ امن کی حفاظت ہو سکے۔قانون بالاتر ہے اور ریاست کمزور نہیں؛ یہ پیغام ہر اُس فرد کے لیے ہے جو مذہب یا عقیدے کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر ہر مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ پیغام خصوصاً ان عناصر کے لیے واضح انتباہ ہے جو مذہب کے پردے میں معاشرتی انتشار پھیلانے میں لگے ہیں۔ میر مصطفٰی مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان میں امن و رواداری کو فروغ دینا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور مذہبی انتشار سے بچانے کے لیے ہر سطح پر مربوط اقدام جاری رہیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے