گلگت بلتستان کے نگران وزیر اطلاعات غلام عباس نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران سیٹ اپ کی اولین ترجیح آئندہ انتخابات کو صاف اور شفاف طریقے سے منعقد کروانا ہے۔ غلام عباس نے واضح کیا کہ نگران حکومت صحافت کی آزادی پر مضبوط یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کے مسائل کی ترجیحی بنیاد پر نشاندہی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ عوامی مسائل بالخصوص بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش جاری ہے اور منسٹری آف آئی ٹی کے ساتھ مل کر علاقے میں کوریج اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔ غلام عباس نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں فور جی کوریج محدود ہے اور کوشش ہے کہ یہ صورتحال جلد درست کی جائے۔نگران وزیر اطلاعات نے صحافی برادری کے فلاح و بہبود پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور صحافیوں کی تنخواہوں کے بروقت اجراء کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور وہ خود اس ادارے کو اپنا گھر قرار دیتے ہیں۔غلام عباس نے بین الاقوامی سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار اور بھارت نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا ہے مگر ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ جی بی کے آئندہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر حصہ لینے کی اجازت ہوگی اور نگران سیٹ اپ ہر امیدوار کے لیے شفاف مواقع فراہم کرے گا۔اس پروگرام میں ترجمان نگران وزیر اعلیٰ شبیر میر، صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی، صدر جی بی جرنلسٹس فورم ابرار استوری، ممبر گورننگ باڈی این پی سی جعفر بلتی اور سابق صدر آر آئی یو جے عابد عباسی بھی موجود تھے۔ اظہر جتوئی نے غلام عباس کو خوش آمدید کہا اور ان کی نگران عہدے پر تقرری کو جی بی کے لیے اعزاز قرار دیا، جبکہ شبیر میر نے کہا کہ ہمارے پاس تین ماہ کا وقت ہے اور نئے چہرے عوامی مفادات کے لیے محنت کر رہے ہیں۔نگران وزیر اطلاعات نے بتایا کہ گزشتہ حکومت کی مدت نومبر دو ہزار پچیس میں مکمل ہوئی جس کے بعد جسٹس (ر) یار محمد کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا اور موجودہ نگران انتظامیہ کا مقصد عوامی فلاح اور انتخاباتی عمل کی شفافیت ہے۔ غلام عباس کا کہنا تھا کہ عوام کے دکھ درد کو گمنام نہیں رہنے دیا جائے گا اور جو وعدے کیے جا رہے ہیں، وہ عمل میں بھی نظر آئیں گے۔شبیر میر نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ نگران سیٹ اپ صاف شفاف انتخابات کروائے گا اور چند ماہ میں عوام کے لیے قابلِ دید اقدامات کیے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے پریس کلب اور صحافیوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صحافت کی آزادی اور عوامی مسائل کی نشاندہی نگران حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
