گلگت بلتستان گروپ کا قیام اور آئندہ انتخابات میں حصہ

newsdesk
4 Min Read
سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے قومی پریس کلب اسلام آباد میں گلگت بلتستان گروپ کے قیام کا اعلان اور انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا وعدہ کیا۔

قومی پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے گلگت بلتستان گروپ کے قیام کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ فورم آئندہ انتخابات میں خود اپنے امیدوار کھڑا کرے گا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ گروپ کا فیصلہ طویل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مقامی مسائل کے حل کے لیے مضبوط سیاسی متبادل فراہم کرنا ہے۔ گلگت بلتستان گروپ آئندہ انتخابات میں ہر حلقے سے مضبوط اور قابل امیدوار اتارنے کا عزم رکھتا ہے۔پریس کانفرنس میں سابق وزراء اور اہم سیاسی رہنماؤں میں راجہ اعظم خان، حاجی شاہ بیگ، شمس الحق، خان اکبر خان، ایمان شاہ، فتح اللہ خان، ظفر محمد شدام خیل، کپٹن محمد شفی (ریٹائرڈ) اور مولانا سلطان رئیس شامل تھے۔ شرکاء نے مشترکہ طور پر کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے اور باہمی مشاورت کے بعد آئندہ مرحلوں میں کسی قومی جماعت کے ساتھ الحاق یا شراکت پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔حاجی گلبر خان نے گزشتہ سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ۴ جولائی ۲۰۲۳ کو ایک جعلی ڈگری کیس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے خالد خورشید کو نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے فارورڈ بلاک نے اسمبلی میں کردار ادا کیا اور ۱۳ جولائی ۲۰۲۳ کو قائدِ ایوان کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی اعتماد کی بنیاد پر وہ ۲۴ نومبر ۲۰۲۵ تک وزارتِ اعلیٰ پر فائز رہے۔گروپ نے اپنی پچھلی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے گندم کے کوٹے میں اضافہ، گندم کی تقسیم کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنا اور حصولِ خوراک کے حوالے سے عوامی بے چینی کو کم کرنا شامل قرار دیا۔ اسی طرح عوامی زمینوں کو سرکاری ملکیت سے آزاد کر کے عوام کے نام منتقل کرنے کا تاریخی کام لیڈرز ریفارم ایکٹ کے ذریعے مکمل کیا گیا جسے شرکاء نے ایک نمایاں کارنامہ قرار دیا۔ مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن اور سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے جائز مطالبات کے حل کے اقدامات کو بھی گروپ کی کامیابیوں میں شمار کیا گیا۔گروپ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے ۲۴ نشستوں پر آئندہ الیکشن ۲۰۲۶ عام تاریخ سے مختلف ہوگا اور اس سال بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لیا جائے گا تاکہ جیت کر مقامی حکومت سازی کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں عملی کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کم مدت میں مشکلات اور مالی رکاوٹوں کے باوجود کی جانے والی کارکردگی نے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے اور اسی اعتماد کے تحت یہ سیاسی یکجہتی تشکیل دی جا رہی ہے۔اے جلسے میں شرکاء نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ سیاسی مذاکرات کے دروازے تمام جماعتوں کے لیے کھلے ہیں اور آئندہ فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ گلگت بلتستان گروپ نے عوامی خدمت کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور بتایا کہ آئندہ منصوبہ بندی میں مضبوط امیدواروں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کر کے علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو اعلیٰ ترجیح دی جائے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے