گھمِ سرکش میں عوامی سماعت کا انعقاد

newsdesk
2 Min Read
نیشنل کالج آف آرٹس میں احمدعلی قدیور کی پیشکش نے صداخانہ کے آرکائیوز اور جدید تراکیب سے یاد، مزاحمت اور اجتماعی سوگ کو سامنے لایا

نیشنل کالج آف آرٹس کے شاکر علی آڈیٹوریم میں ایک منفرد عوامی سماعت کا انعقاد کیا گیا جس میں بین الشعبہ فنکار، صحافی اور لوک موسیقی کے فعال کارکن احمدعلی قدیور نے اپنی پیشکش کے ذریعے سامعین کو صوتی یادداشت اور مزاحمت کے معاملات سے روشناس کرایا۔ اس نشست نے سامعین کو سنا ئی کے تجربے کے ذریعے مشترکہ احساسات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔پیشکش میں صوتی مواد کو یاد، مزاحمت اور اجتماعی سوگ کا ذریعہ دکھایا گیا اور اسی تناظر میں گھمِ سرکش کا عنوان استعمال کیا گیا۔ پروگرام میں صوتی مناظر کو ایک ایسے تجربے کی صورت میں ترتیب دیا گیا جس نے سننے والوں کو خاموشی اور آواز کے مابین تعلق پر غور کرنے کی دعوت دی۔پروگرام کا ایک اہم حصہ صداخانہ ایرانی لوک موسیقی لائبریری کے آرکائیو ریکارڈنگز تھے جنھیں جدید کمپوزیشنز کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔ قدیم لوک دھنوں اور نئے صوتی امتزاجوں کے ملاپ نے کہانیوں، غم اور بغاوت کے انداز کو برقرار رکھا اور اس بات کی عکاسی کی کہ موسیقی کیسے روایات کو محفوظ رکھتی اور احتجاجی جذبات کو زندہ رکھتی ہے۔حاضروں نے اس صوتی تجربے میں گہرا تعلق محسوس کیا اور نشست نے یاد و جدوجہد کے بیانیے کو ایک مشترکہ فنکارانہ زبان میں برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس دوران گھمِ سرکش نے سامعین کو وہ لمحے فراہم کیے جہاں موسیقی نے تاریخ اور ذاتی یادوں کو آپس میں ملا دیا۔یہ عوامی سماعت اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ادارہ جاتی اور عوامی سطح پر ایسے تجربات فن اور معاشرتی یادداشت کو جوڑتے ہیں، اور نیشنل کالج آف آرٹس میں منعقدہ اس نشست نے اسی مقصد کو ایک مؤثر انداز میں سامنے رکھا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے