اقوامِ متحدہ برائے خواتین اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے جاری تعاون کو مضبوط کرتے ہوئے ایک ملاقات میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے عملی حکمتِ عملیوں پر تبادلہِ خیال کیا۔ اس ملاقات کا محور ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے اصولوں کو کاروباری شعبے میں نافذ کرکے خواتین کے لیے مساوی مواقع اور محفوظ، شمولیتی ملازمت کے مواقع پیدا کرنا تھا۔شرکاء نے پائیدار کاروباری طریقوں کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا گیا کہ شفافیت اور خواتین کی قیادت کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنائیں گے۔ اس عمل میں صَرف پالیسی سازی ہی نہیں بلکہ مارکیٹ کے طریقِ کار میں صنفی مساوات کے اصولوں کو شامل کرنا بھی شامل ہوگا تاکہ طویل مدتی، شمولیتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صنفی مساوات کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے کمپنیوں میں شفاف رپورٹس، خواتین کی قیادت کے مواقع میں اضافہ اور محفوظ ورک پلیس کلچر کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ یہ اقدامات خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے متعارف کروائے جائیں گے۔دونوں اداروں کا مقصد یہ ہے کہ بازار کے معمولات میں صنفی مساوات کی جڑیں مضبوط ہوں تاکہ معیشت میں شمولیت اور ترقی کے فوائد پورے معاشرے، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں تک پہنچ سکیں۔ اس عزم کے تحت آئندہ عملی اقدامات اور رہنمائی کے فریم ورک پر بھی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
