قومی ادارہ برائے آفات اور اقوامِ متحدہ برائے آبادی فنڈ نے دو ہزار چھبیس کے لیے صنفی تشدد کے ذیلی گروپ کا پہلا اجلاس بلایا۔ اجلاس میں پچاس سے زائد انسانی امداد کے شراکت دار، حکومتی محکمے، اقوامِ متحدہ کے ادارے اور سول سوسائٹی تنظیمیں شریک ہوئیں اور آفات کی تیاری اور ہنگامی ردعمل کے تناظر میں بات چیت کی گئی۔اجلاس کا مرکزی مقصد صنفی تشدد کی روک تھام، کمی کو کم کرنا اور متاثرین کو مرکز میں رکھ کر مؤثر جوابدہی کو مضبوط بنانا تھا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ منصوبہ بندی اور عملی اقدامات میں جماعتی حساسیت اور صنفی نقطۂ نظر کو مربوط کرنا ضروری ہے تاکہ متاثرین کو بروقت اور موزوں خدمات میسر ہوں۔مکالمے میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ ہنگامی صورتحال میں جنسی و تولیدی صحت کی خدمات اور صنفی تشدد کے ردعمل کی فراہمی کو ترجیح دی جائے تاکہ امدادی عمل صنفی طور پر جوابدہ اور کمیونٹی کے مطابق ہو۔ یہ پہلو صنفی تشدد سے متاثر افراد کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ڈاکٹر گلنارا کادیرکولووا، اقوامِ متحدہ برائے آبادی فنڈ کی معاون نمائندہ نے کہا کہ ہنگامی حالات میں جنسی و تولیدی صحت اور صنفی تشدد کے لیے مخصوص خدمات کو اولین ترجیح دیے بغیر موثر ردعمل ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے متاثرین مرکزیت کے اصول کی اہمیت پر بھی زور دیا اور مقامی اداروں کے ساتھ مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔شرکاء نے کہا کہ مستقبل میں اس ذیلی گروپ کے ذریعے اشتراکِ معلومات، تربیت اور حکمتِ عملی کی ہم آہنگی پر زور دیا جائے گا تاکہ آفات کی تیاری اور ہنگامی ردعمل میں صنفی تشدد کے خلاف کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ صنفی تشدد کے موضوع پر یہ باہمی تعاون ملکی اور مقامی سطح پر خدمات کی رسائی اور معیار میں اضافہ کا ذریعہ بنے گا۔
