ایف ایم جیز کا این آر ای نتائج میں شفافیت نہ ہونے پر پی ایم ڈی سی کے خلاف احتجاج کا اعلان
ندیم تنولی
اسلام آباد: غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) نے نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) کے نتائج میں شفافیت نہ ہونے کے خلاف 15 جنوری کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے دفتر اور اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ ایف ایم جیز کے نمائندوں نے ریگولیٹر پر الزام عائد کیا ہے کہ این آر ای کے نتائج ایک مبہم اور ناقابلِ تصدیق نظام کے تحت جاری کیے گئے، جس میں امیدواروں کو نمبرز، فیصد، آنسر کیز اور اپنی جوابی کاپیوں تک رسائی نہیں دی گئی۔
یہ تنازع حالیہ این آر ای اسٹیپ ون کے نتائج کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جن میں کامیابی کی شرح غیر معمولی حد تک کم رہی۔ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے نمائندوں کے مطابق میڈیکل گریجویٹس میں بمشکل ایک پانچواں حصہ امتحان پاس کر سکا، جبکہ ڈینٹل گریجویٹس کی کامیابی کی شرح اس سے بھی کہیں کم رہی اور صرف چند امیدوار ہی کامیاب قرار پائے۔ احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ محض یہ اعداد و شمار ہی امتحانی نظام کے فوری اور سنجیدہ جائزے کا تقاضا کرتے ہیں۔
ایف ایم جیز کا کہنا ہے کہ امیدواروں کو صرف پاس یا فیل کی حیثیت سے آگاہ کیا گیا، جبکہ نمبرز یا فیصد کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ نہ تو سرکاری آنسر کیز جاری کی گئیں، نہ ہی جوابی کاپیوں کی کاربن کاپیاں دی گئیں اور نہ ہی نتائج پر نظرِ ثانی یا اپیل کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود تھا۔ ان کے مطابق اس دستاویزی خلا نے تشخیصی عمل کو ایک ’’بلیک باکس‘‘ بنا دیا ہے، جس سے بیرونِ ملک طبی تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں امیدوار شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے قانونی اور طریقہ کار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ نتائج پی ایم ڈی سی کے کن قواعد کے تحت جاری کیے گئے اور امیدواروں کو اپنی ہی مارکس اور جوابی کاپیوں تک رسائی کیوں نہیں دی گئی۔ ایف ایم جیز کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ قابلِ سراغ اسکورنگ، واضح معیار اور باقاعدہ اپیل سسٹم کے بغیر خود امتحانی عمل کی ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے۔
نتائج کی شفافیت کے علاوہ ایف ایم جیز نے مبینہ طور پر نئی پالیسیوں کے ماضی پر اطلاق (ریٹروسپیکٹو امپلیمنٹیشن) پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لائسنسنگ کے عمل میں داخل ہونے کے بعد قواعد میں تبدیلی ناانصافی اور ادارہ جاتی عدم تسلسل کے مترادف ہے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ کسی بھی نئی پالیسی کا اطلاق آئندہ کے لیے کیا جائے تاکہ زیرِ عمل امیدواروں کے کیریئر متاثر نہ ہوں۔
احتجاجی مطالبات میں مکمل نمبرز اور فیصد کی فوری فراہمی، آنسر کیز کی اشاعت، جوابی کاپیوں کی کاربن کاپیاں، مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ امتحان کا نفاذ اور سال میں متعدد مرتبہ این آر ای کے انعقاد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مقررہ فیصد کی بنیاد پر واضح پاسنگ کریٹیریا، موجودہ تشخیصی طریقہ کار میں تبدیلی اور آئندہ مراحل کے لیے کوششوں (اٹیمپس) سے متعلق پالیسی میں نظرِ ثانی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایف ایم جیز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ اس سے آگے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق کلینیکل ایکسپوژر کے مواقع میں تاخیر، ہاؤس جاب کے حوالے سے غیر واضح ہدایات اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے براہِ راست رابطے کا فقدان صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس خلا نے امیدواروں کو غیر سرکاری ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے غلط معلومات اور ادارے پر عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ احتجاج ڈاکٹر عبدالرحمان گجر، ڈاکٹر میاں دانیال اسرار، ڈاکٹر سمر اسلام، ڈاکٹر حرا جاوید اور ڈاکٹر عالی سمیت دیگر ایف ایم جی نمائندوں کی قیادت میں منظم کیا جا رہا ہے، جنہوں نے اراکینِ پارلیمنٹ، حکومتی حکام اور میڈیا سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک پیشہ ورانہ معیار کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک شفاف، ضابطہ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی نظام کے قیام کے لیے ہے۔
اس حوالے سے جب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ایک نمائندے سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ معاملہ متعلقہ افسر کو بھجوا دیا گیا ہے اور جواب موصول ہونے پر فراہم کر دیا جائے گا۔
Read in English: FMGs announce protest against PMDC over NRE results transparency

