فضائیہ میڈیکل کالج میں خواتین کے لئے خود دفاع کی تربیتی ورکشاپ
اسلام آباد میں فضائیہ میڈیکل کالج (ایف ایم سی)، ایئر یونیورسٹی نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن اور آئی ایف ایم ایس اے پاکستان کے تعاون سے جامع خود دفاع ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور ماہرین نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس دو روزہ پروگرام کا مقصد خواتین کو نہ صرف دفاعی مہارتیں سکھانا بلکہ ان میں خود اعتمادی، حوصلہ اور خود پر بھروسے کا جذبہ پیدا کرنا تھا، تا کہ وہ کسی بھی صورتحال میں اپنا تحفظ کرسکیں۔
ورکشاپ کی سرپرستی فضائیہ میڈیکل کالج کے پرنسپل، میجر جنرل (ر) محمد طاہر خادم نے کی جنہوں نے افتتاحی خطاب میں اس اقدام کو "اعتماد کی ڈھال” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں جب خواتین کو عوامی مقامات پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے تربیتی پروگرام نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی مضبوطی اور حوصلہ مندی تعلیمی کامیابی جتنی ہی ضروری ہیں۔
واٸس پرنسپل بریگیڈیئر (ر) پروفیسر محمد مظہر حسین نے اس ورکشاپ کو انقلابی قرار دیا اور کہا کہ یہاں صرف تربیت نہیں بلکہ تبدیلی دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹیوں کو اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیتیں ملنا فخر کی بات ہے اور پاکستان میں اس نوعیت کے مزید پروگرامز ہونے چاہئیں۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کی مس قراةالعین نے کلیدی خطاب میں "حوصلا منتقل ہوتا ہے” کے موضوع پر بات کی اور کہا کہ ایک بااختیار خاتون دوسروں کے لیے روشنی کی کرن بن جاتی ہے۔
ورکشاپ کی فنی تربیت پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن کے صدر انور محی الدین و نائب صدر فائزہ رشید اور ان کے ساتھ انسٹرکٹرز نے فراہم کی۔ تربیتی سیشن میں روایتی مارشل آرٹس کے بجائے حقیقی زندگی کی حکمت عملی سکھائی گئی، جیسے چاقو یا پسٹل سے بچاؤ، پریشر پوائنٹس کے استعمال اور حالات سے نمٹنے کی شعوری تربیت۔
انور محی الدین نے کہا کہ خود دفاع جارحیت نہیں بلکہ بقا اور عزت کے تحفظ کا نام ہے۔ متعدد معروف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے پہلی بار اس نوعیت کی تربیت جوش و خروش سے حاصل کی، جن میں این یو ایس ٹی، فاسٹ، این ڈی یو، بحریہ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی، آئی آئی یو آئی، فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور ایف ایم سی شامل ہیں۔
سرین ایئر سے محترمہ عائشہ فاروق اور محترمہ سنینا یونس نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہوا بازی میں سلامتی اولین ترجیح ہے، اسی طرح روزمرہ زندگی میں بھی خواتین کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ محترمہ عائشہ فاروق نے اعلان کیا کہ سرین ایئر جلد ہی پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے اپنی خواتین عملے کے لیے خصوصی تربیت کا آغاز کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کرے گی۔
اختتامی تقریب میں شرکاء میں اسناد اور انعامات تقسیم کئے گئے۔ اپنے خطاب میں انور محی الدین نے کہا کہ یہ محض اختتام نہیں بلکہ ایک نئی تحریک کا آغاز ہے۔ ہر شرکاء اب ہمت کا سفیر ہے اور اسے چاہیے کہ یہ علم اپنے خاندان اور معاشرے تک پھیلائے۔
شرکاء نے تقریب کے اختتام پر پرجوش انداز میں کھڑے ہو کر پذیرائی کی جبکہ پرنسپل طاہر خادم نے اس پروگرام کی روح کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ خواتین کو با اختیار بنانے سے خاندان مضبوط ہوتے ہیں اور خاندانوں کی مضبوطی سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔ پاکستان کا مستقبل نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ باہمت بھی ہے۔
