قومی اکیڈمی برائے اعلیٰ تعلیم نے لاہور کے سیرت سینٹر میں ایک روزہ فہمِ قرآن تربیتی ورکشاپ منعقد کی جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے لازمی فہمِ قرآن کورس کی تدریسی استعداد کو فروغ دینا تھا۔ یہ علاقائی اقدام سرکاری اور نجی شعبے کے عربی اور اسلامیات کے اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا تاکہ وہ دو کریڈٹ گھنٹے کے اس لازمی کورس کو بہتر انداز میں پڑھا سکیں۔ورکشاپ میں شرکاء کو فہمِ قرآن کے متعلق مفہومی وضاحت اور تدریسی طریقۂ کار پر مرکوز تربیت دی گئی تاکہ وہ کلاس روم میں مؤثر انداز میں مطالعہ اور تشریح پر روشنی ڈال سکیں۔ پروگرام میں نصاب کے مطابق تدریس کے عملی پہلوؤں، سوال و جواب کی حکمتِ عملی اور طلبہ میں غوروفکر کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال بھی شامل تھا تاکہ اس کورس کی تقاضوں کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔ورکشاپ کے دورانیے میں شرکاء نے قرآن کے ساتھ عمیق غور و فکر یعنی تدبر کی اہمیت پر خصوصی توجہ دی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ فہمِ قرآن صرف تلاوت تک محدود نہیں بلکہ معنی کو سمجھ کر اس کے عملی اطلاق پر بھی کام کرنا ضروری ہے۔ تربیتی سیشنز میں اساتذہ کو کلاس روم میں تجرباتی اور موضوعاتی مشقیں متعارف کروانے کی ترغیب دی گئی تاکہ طلبہ میں فکری گہرائی پیدا ہو۔افتتاحی کلمات میں عرفان شیراز، سیرت سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ قرآن کا بامعنی ادراک محض تلاوت سے آگے ہے اور اساتذہ کو اس فہم کو نسل نو تک منتقل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے امیدوار اساتذہ کی تربیت کو تعلیمی معیار بلند کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔اختتامی کلمات میں ڈاکٹر عُظمہ قریشی، وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی نے قومی اکیڈمی کی اس پہل کی تعریف کی اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ سے اپیل کی کہ ورکشاپ کے حاصل کردہ نتائج کو اپنے نصاب اور عملی تدریس میں شامل کریں تاکہ اقدار پر مبنی تعلیم کو تقویت ملے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ تربیت فہمِ قرآن کی موثر تدریس میں نمایاں کردار ادا کرے گی اور وہ اپنے اداروں میں سیکھے ہوئے اسالیب نافذ کریں گے۔
