وفاقی وزیر برائے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان خچی نے ادبی اداروں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ یہ بیان انہوں نے پاکستان اکیڈمی برائے ادبیات کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں منعقدہ دوسرے دس روزہ بین الصوبائی رہائشی پروگرام برائے نوجوان نویسندگان کے افتتاحی سیشن کے موقع پر دیا۔ وزیر نے واضح کیا کہ حکومت ادبی اداروں کے ساتھ کھڑی رہے گی تاکہ قلمکاروں کو فروغ اور ادبی سرگرمیوں کو تقویت مل سکے۔وزیر کا کہنا تھا کہ مصنف اور شاعر قوم کو درست سمت دکھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور معاشرے کی اخلاقی و فکری رہنمائی میں ان کا کردار بنیادی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت ادبی اداروں کو سہولتیں اور مالی یا انتظامی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ملک گیر سطح پر ادب کی ترویج ممکن ہو سکے۔پاکستان اکیڈمی برائے ادبیات کی سربراہ ڈاکٹر نجیبا عارف نے جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دور دراز علاقوں سے نئے لکھاریوں کی دریافت اور فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت ادیب وقت کے ساتھ اپنی جگہ بناتے ہیں اور اکیڈمی ایسے نوجوان ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی ادبی اداروں کی ترویج میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور بتایا کہ وزارتِ اعظم کو لکھاریوں کے اعزازیہ میں اضافہ کے سلسلے میں سمری بھجوائی گئی ہے جس کے تحت اعزازیہ بائیس ہزار سے بڑھا کر پچیس ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور مستقبل میں مزید بہتری کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔اسد رحمان گیلانی، سیکرٹری وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے بھی پاکستان اکیڈمی برائے ادبیات کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وزارتِ ثقافت قومی سطح پر ادیبوں اور لکھاریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ادبی سرگرمیاں مضبوط کی جائیں گی۔معروف شاعر افتخار عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی زبان میں لکھا گیا کام پاکستانی ادب کا حصہ ہے اور تمام زبانوں کو یکساں احترام ملنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک، اپنے دور اور اپنی زبان پر توجہ دیں کیونکہ یہی تین عناصر حقیقی تبدیلی کے لیے بنیادی ہیں اور لکھاری معاشرتی تبدل کے محرک بن سکتے ہیں۔پاکستان اکیڈمی برائے ادبیات کے زیرِ اہتمام یہ رہائشی پروگرام پندرہ جنوری سے چوبیس جنوری دو ہزار چھبیس تک جاری رہے گا۔ پروگرام کا مقصد دور دراز علاقوں کے لکھاریوں کو مرکزی ادبی منظرنامے سے روشناس کرنا، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا اور وفاقی دارالحکومت کے ادبی ماحول میں نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیا جانا مقصود ہے۔شرکا پروگرام کے دوران اکیڈمی کے مہمان خانہ میں قیام کریں گے اور مختلف ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے جن میں اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ادبی پروگرام، علمی اور ادبی اداروں کے دورے، معروف ادبی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں اور اپنی تخلیقات پیش کرنے کے مواقع شامل ہیں۔ اس پروگرام میں ملک کے چاروں صوبوں سے منتخب کردہ بیس لکھاری شریک ہیں جو مختلف اہداف کے تحت تربیت اور تبادلہ خیال کریں گے۔ادبی ادارے اور متعلقہ حکام اس نوعیت کے پروگراموں کو ادبی منظرنامے میں پھیلاؤ اور نئے لکھاریوں کی سرپرستی کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں، جب کہ حکومتی معاونت سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ادبی سرگرمیاں مزید مستحکم ہوں گی اور قلمکاروں کو زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔
