ملاقات میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مردم شماری دو ہزار پچیس کی بنیاد پر قومی اور صوبائی سطح کے آبادی کے تخمینوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں مختلف خطوں کے اعداد و شمار، آبادی کے رجحانات اور مستقبل کے ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے جن میں صوبائی سطح پر آبادیاتی فرق اور وسائل کی ضرورت کے تخمینے شامل تھے۔ اس دوران موجودہ ڈیٹا کی روشنی میں تخمینوں کی درستی اور ان کی تکنیکی بنیادوں پر بات کی گئی۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے بریفنگ کے دوران اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ تمام تخمینوں کو موجودہ اور مستند ڈیٹا سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ مستقبل کی صحت و آبادی کی پالیسی سازی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ واضح اور درست معلومات کے بغیر منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبادی کے تخمینے صحت کے پروگراموں، ویکسینیشن منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں رہنمائی فراہم کریں گے، اس لیے تخمینوں میں شفافیت اور ہم آہنگی لازمی ہے۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ فوری اقدامات کے ذریعے تخمینوں کی تصدیق اور مطابقت یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں مستقبل کی پالیسی سازی اور بین ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت کا بھی تذکرہ ہوا اور کہا گیا کہ تخمینوں کی بنیاد پر منصوبہ بندی میں قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دی جائے گی، جن میں عالمی ادارۂ صحت، یونیسف، گیوی الائنس، گیٹس فاؤنڈیشن اور توسیعی پروگرامِ حفاظتی ٹیکہ کاری شامل ہیں۔
