قومی پریس کلب اسلام آباد میں فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے طلبہ کے لیے مخصوص میڈیکل نشستیں بحال کی جائیں تاکہ وہ اپنی اعلیٰ طبی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ طلبہ نے کہا کہ مقامی سطح پر طبی کالج نہ ہونے کے باعث مختص کردہ نشستیں ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔پریس کانفرنس میں شریک طلبہ شوکت اللہ، حزب اللہ وزیر، اسد، اللہ یار، راحت اللہ اور دیگر نے بتایا کہ قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) میں آج بھی کوئی میڈیکل کالج موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے میڈیکل نشستیں ان علاقوں کے نوجوانوں کے لیے زندگی بدلنے والا موقع ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ نشستیں عوامی مفاد اور علاقے کے ترقی یافتہ مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔طلبہ نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کمیشن کی طرف سے سابقہ طور پر فاٹا اور بلوچستان کے لیے مجموعی طور پر ۳۳۳ نشستیں مخصوص تھیں مگر اس سال یہ تعداد کم کر کے ۱۲۱ کر دی گئی ہے۔ اس مختص شدہ تعداد میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو ۱۱۳ نشستیں اور آزاد جموں و کشمیر کو ۸ نشستیں عطا کی گئی ہیں جبکہ گزشتہ سال خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے ۱۴۹ نشستیں اور آزاد جموں و کشمیر نے ۸ نشستیں مختص کی تھیں۔ پچھلے سال سندھ سے ۶۸ نشستیں فراہم کی گئی تھیں مگر اس سال تاحال سندھ کی جانب سے کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی اور اسی طرح بلوچستان نے پچھلے سال ۲۴ نشستیں مختص کی تھیں مگر اس سال وہاں سے بھی کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی۔طلبہ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب کی متعلقہ طبی یونیورسٹی ہر سال ۷۶ نشستیں مختص کرتی ہے مگر اس سال اس نے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے اور نشستیں مختص کرتے وقت معیار کو نظر انداز کیا گیا جس سے طلبہ میں شدید اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ۲۰۱۸ میں اس معاملے پر ایک باقاعدہ پالیسی بنائی گئی تھی جس میں کوٹا دگنا کرنے کی بات شامل تھی مگر افسوس کہ اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔شرکائے پریس کانفرنس نے اعلیٰ تعلیم کمیشن سے مطالبہ کیا کہ سابقہ طور پر مختص کردہ ۳۳۳ طبی نشستیں فوری طور پر بحال کی جائیں تاکہ فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ اپنی اعلیٰ طبی تعلیم جاری رکھ کر ملک کے مفید شہری بن سکیں اور علاقائی تعلیمی و سماجی خساروں کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحالی نہ ہونے کی صورت میں طلبہ مزید احتجاجی اقدامات پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
