اسلام آباد ائیرپورٹ پر جعلی بچے بنا کر روک لیے گئے

newsdesk
3 Min Read
فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر جعلی بچے ظاہر کرکے بیرون ملک بھیجنے کی کوشش ناکام بنا دی، مزید تفتیش جاری ہے

فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کی امیگریشن ٹیم نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر ایک کارروائی کے دوران پانچ مسافروں کو آف لوڈ کر دیا جنہوں نے جعل سازی کے ذریعے خود کو بچوں کے طور پر ظاہر کر کے ہانگ کانگ جانے کی کوشش کی تھی۔ مسافروں کو وزٹ ویزے کے ذریعے تھائی لینڈ کے راستے ہانگ کانگ بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔افسران کے مطابق متاثرہ مسافروں میں بشری، امجد علی، علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی خان شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ امجد علی بشری کا حقیقی بیٹا ہے جبکہ علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی خان بشری کے حقیقی بچے نہیں ہیں اور انہیں جعلی طور پر بچوں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں نے ہر فرد کے لیے ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے تک ایجنٹ کو ادا کیے۔ مبینہ ایجنٹ نے نادرا کے ریکارڈ میں جعل سازی کر کے تینوں افراد کو اعجاز علی کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کر دیا اور ان کے ریکارڈ میں پتہ صوابی ظاہر کیا گیا تاکہ وہ بطور بچوں بیرون ملک لے جائے جا سکیں۔نظام کے ابتدائی جائزے کے مطابق علیزے شاہین کا تعلق سرگودھا سے، محمد عدنان کا تعلق اٹک سے اور ذیشان علی کا تعلق خوشاب سے ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ائیرپورٹ پر مسافروں کو سہولت فراہم کرنے میں پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار کا کردار ملوث تھا جسے تفتیش کے لیے شامل کیا گیا ہے اور اس اہلکار کے رابطوں کے متعلق مزید معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کو منتقل کر دیا گیا ہے اور معاملے کی باریک بینی سے چھان بین جاری ہے۔ تفتیش کا دائرہ نادرا اور پاسپورٹ محکمہ کے اہلکاروں کی ممکنہ شمولیت تک وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ جعل سازی کے مکمل نیٹ ورک کا پتا لگایا جا سکے۔ایف آئی اے کے ترجمان نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جعلی بچے دکھا کر بیرون ملک بھیجنے کی کوشش ناکام بنائی گئی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے