ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو 17.04 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع

newsdesk
7 Min Read
ایزی پیسہ نے 2025 میں 17.04 ارب روپے منافع ظاہر کیا، آمدنی اور جمعات میں تیزی، رجسٹرڈ یوزرز 5 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ہو گئے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو 17.04 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع

اسلام آباد، 10 مارچ، 2026: ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہوئے سال کے لیے آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج کی منظوری دے دی ہے۔ 2025 میں بینک کے شاندار مالیاتی نتائج ملک کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کی حیثیت سے اس کی مستحکم کارکردگی کا عکاس ہیں اور پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں اس کی قائدانہ حیثیت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کا بعد از ٹیکس منافع (PAT) بڑھ کر 17.04 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال 3.41 ارب روپے تھا۔ اسی طرح فی حصص آمدن (EPS) میں بھی نمایاں اضافے سے 28.47 روپے پر جا پہنچی، جو 2024 میں 5.77 روپے تھی۔ بعد از ٹیکس منافع اور فی حصص آمدن میں اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ 10.79 ارب روپے کا نیٹ ڈیفرڈ ٹیکس ہے، جو ماضی میں استعمال نہ ہونے والی ٹیکس ڈیپریسی ایشن اور کاروباری نقصانات کے باعث سامنے آیا، جبکہ بینک کی پائیدار منافع بخش کارکردگی نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ بینک کی مستحکم کارکردگی کی بنیادی وجہ ڈپازٹس میں نمایاں اضافہ اور ادائیگی کی خدمات سے حاصل ہونے والی فیس پر مبنی آمدن میں بہتری رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر لاگت کنٹرول نے بھی مجموعی منافع بڑھانے میں کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ میں کمی کی تھی۔

بینک کی مالیاتی کارکردگی اہم اعشاریوں میں مضبوط ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ آمدن سال بہ سال 18.53 فیصد بڑھ کر 46.1 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ جس کی وجہ نیٹ مارک اَپ آمدن میں 7.12 فیصد اضافہ ہوا اور نان مارک اَپ آمدن 37.76 فیصد بڑھ گیْی۔ یہ کارکردگی ڈیجیٹل قرضوں میں پیش رفت، کم لاگت ڈپازٹس میں اضافہ اور ادائیگیوں کے کاروبار میں لین دین کے بڑھتے ہوئے حجم کی عکاسی کرتی ہے۔

آپریٹنگ اخراجات میں 7.12 فیصد معتدل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ٹیکنالوجی انفرااسٹرکچر، ہنر مند افرادی قوت کے حصول اور صارفین کی تعداد بڑھانے کے اقدامات میں مسلسل سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے، جس میں جمع شدہ معاوضہ جاتی اخراجات کی حقیقی ادائیگی نے توازن پیدا کیا۔ مزید برآں کاسٹ ٹو انکم ریشو بہتر ہوکر 73.12 فیصد پر ہوگیا، جو گزشتہ سال 80.91 فیصد تھا۔ یہ ادارے کے بہتر آپریشنل کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

بینک کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں مسلسل توسیع دیکھی گئی اور رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 59 ملین سے بڑھ گئی، جبکہ ماہانہ ایکٹیو صارفین (MAUs) کی تعداد بھی بڑھ کر 20 ملین تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے 16.1 ملین کے مقابلے میں 24.22 فیصد اضافہ ہے۔ کسٹمر ڈپازٹس 127.7 ارب روپے تک جا پہنچے، جو 2024 کے مقابلے میں 67.60 فیصد زائد ہے۔ یہ اعداد و شمار ایزی پیسہ کے ڈیجیٹل ریٹیل بینک میں تبدیل ہونے کے بعد صارفین کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ کاسا (CASA) ریشو 97.82 فیصد پر مستحکم رہا۔

بینک کے ایڈوانسز 26.93 ارب روپے رہے، جبکہ لون ٹو ڈپازٹ ریشو 19.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ نان پرفارمنگ لونز (NPLs) میں 4 فیصد بہتری دیکھی گئی، جبکہ کوریج ریشو 144.6 فیصد رہی۔ ایکویٹی 30.91 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو (سی اے آر) 20.36 فیصد پر رہا، جو مطلوبہ سطح سے کافی زائد ہے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر و سی ای او جہانزیب خان نے کہا کہ 2025 ایزی پیسہ کے لیے سنگ میل ثابت ہوا، کیونکہ ہم نے پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل بینک کے طور پر باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ہم نئے مصنوعات اور کم خدمات یافتہ طبقات تک رسائی بڑھا رہے ہیں، جبکہ پائیدار ترقی کے ماڈل کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان کے ڈیجیٹل بینکاری ایکو سسٹم میں اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور 59 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ہماری توجہ صارفین اور کاروباروں کو بلارکاوٹ، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی حل کے ذریعے بااختیار بنانے پر ہے، جو ہماری بدلتی ہوئی معیشت کو کیش لیس پاکستان کی جانب پیش رفت میں مدد دے گی۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے چیف فنانشل آفیسر امین سکھیانی نے کہا کہ چیلنجنگ معاشی حالات کے باوجود ایزی پیسہ نے مستحکم آپریشنل پیش رفت کا مظاہرہ کیا، جسے منظم مالیاتی نظم و ضبط اور آمدن کے متنوع ذرائع کی بدولت تقویت ملی۔ ہمارا بڑھتا ہوا پروڈکٹ پورٹ فولیو اور صارفین کی بڑھتی ہوئی شمولیت بینک کی طویل مدتی پائیداری کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ہم ترقی اور محتاط رسک مینجمنٹ کے درمیان توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ قابلِ توسیع منافع بخش کارکردگی کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

ملک کے پہلے ڈیجیٹل بینک کے طور پر باقاعدہ تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کرنے والا ایزی پیسہ 59 ملین سے زائد رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وژن کے مطابق جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ بینک نہ صرف اپنے موجودہ صارفین بلکہ اُن لاکھوں افراد کے لیے بھی مالیاتی مصنوعات اور خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں جو اب تک بینکاری سہولتوں سے محروم یا محدود رسائی رکھتے ہیں۔

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے