مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی نے اپنی ضمانت کے بعد ایک طویل وی لاگ میں اپنی گرفتاری اور رہائی کے حالات سے متعلق تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکاروں پر جسمانی تشدد، بلیک میلنگ اور رشوت طلبی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ انہیں غیرقانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں حراست میں رکھا گیا اور حراست کے دوران انہیں بار بار مارا گیا اور توہین آمیز زبان کا نشانہ بنایا گیا۔ڈکی بھائی نے بتایا کہ حراست کے دوران ان کے تمام ڈیجیٹل پاس ورڈز اور ای میلز ضبط کرنے کے باوجود اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک سات سالہ بچے کے سامنے ویڈیو کال پر تشدد دکھایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تفتیشی افسر اور اس کے رابطہ افراد نے بار بار رشوت کی مانگ کی، کبھی سات سے آٹھ کروڑ، کبھی ساٹھ لاکھ اور کبھی ڈیڑھ کروڑ روپے کے مطالبات کیے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہلکاروں نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جس سے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈکی بھائی نے کہا کہ ان کے اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر رقم زبردستی ایک اہلکار کے ذاتی والٹ میں منتقل کروائی گئی اور ان کے کرپٹو ٹریڈز بند کر کے انہیں مالی نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کرپٹو اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر ۹ کروڑ روپے تک کی منتقلی کا الزام بھی ہے اور وہ اس بارے میں عدالت میں مکمل تعاون کر چکے ہیں۔ڈکی بھائی نے مزید کہا کہ انہیں عدالت میں مکمل تعاون کے باوجود غیر معمولی طویل ریمانڈ دیا گیا جس کا مقصد صرف رشوت حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بالآخر دباؤ میں آکر ان کی فیملی نے ساٹھ لاکھ روپے ادھار لے کر رشوت ادا کی، جب کہ خود انہوں نے رشوت دینے سے انکار کیا۔ان کے بیان کے مطابق گرفتاری کا واقعہ ۱۶ اگست ۲۰۲۵ کو ہوا جب وہ اہلیہ کے ہمراہ سرکاری پروگرام کے لیے ملک سے روانہ ہونے کے لیے ایئرپورٹ امیگریشن پر موجود تھے اور ایف آئی آر کی بنیاد پر روک کر حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں گلبرگ دفتر منتقل کیا گیا جہاں ان سے معلومات حاصل کرنے کے دعوے کے باوجود تشدد جاری رہا۔ڈکی بھائی نے خاص طور پر اپنے تفتیشی افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی سے قبل این سی سی آئی اے کے سات افسران گرفتار ہوئے اور بعض نے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ متعلقہ ادارے کی جانب سے ان الزامات پر ابھی تک باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی ایک مقامی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت گرفتار افسران سے سوا چار کروڑ روپے سے زیادہ رقم برآمد کی گئی ہے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سے ایک کروڑ ۲۵ لاکھ ۴۸ ہزار روپے ضبط کیے گئے۔ڈکی بھائی نے یہ بھی کہا کہ کرپٹو رقوم کے معاملے میں انہیں مجبور کر کے تین لاکھ چھبیس ہزار امریکی ڈالر ان کے والٹ میں بھیجنے پر مجبور کیا گیا اور بعد ازاں اسی رقم کو ’ریکوری‘ ظاہر کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جو ان کے مطابق برآمد کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ ذاتی طور پر رکھنے کے مقصد سے نکالی گئی تھی۔انہوں نے قوم سے معافی بھی مانگی اگر ان کے کسی مواد سے کسی کو نقصان پہنچا ہو اور امید ظاہر کی کہ عدالت انہیں انصاف دے گی اور وہ عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے۔ اپنے بیان کے آخر میں ڈکی بھائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈی جی ایم آئی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جنہوں نے پیشہ ورانہ انداز اختیار کر کے انہیں اس الزاماتی ماحول سے نکالنے میں مدد کی۔ڈکی بھائی پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے بِینومو جیسی ممنوعہ جوئے کی ایپس کی تشہیر کی جو خاص طور پر نوجوانوں اور نابالغوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ بِینومو کو ۲۰۲۳ میں سرکاری طور پر ممنوع قرار دیا گیا تھا، تاہم عدالتوں کے مطابق جوئے کی تشہیر ایک سنجیدہ جرم ہے چاہے ایپ بندی موجود ہو یا نہ ہو۔اس معاملے میں متفرق دعوؤں اور دونوں فریقین کے بیانات کے پیش نظر تفتیش جاری ہے، اداروں کی کارروائی اور عدالت کے فیصلے کے مطابق اگلے مراحل طے ہوں گے جبکہ مربوط شواہد اور قانونی تقاضوں کے تحت ہی حتمی فیصلے سامنے آئیں گے۔
