دبئی کا کلومیٹر ایئر کنڈیشنڈ واک اور سائیکل راستہ

newsdesk
4 Min Read
دبئی میں 93 کلومیٹر طویل مکمل ایئر کنڈیشنڈ واک و سائیکل راستہ 'دا لوپ' تجویز کیا گیا مگر یہ فی الحال محض منصوبہ ہے۔

دبئی میں ایک منفرد شہری نقل و حمل کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کے تحت 93 کلومیٹر طویل مکمل ایئر کنڈیشنڈ واک اور سائیکل راستہ تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ یہ منصوبہ دبئی کو پیدل چلنے اور سائیکل کے لحاظ سے زیادہ دوستانہ بنانے کے وژن کے تحت آنے والے منصوبوں میں سے ایک اہم تجویز شمار ہوتا ہے، اور اس میں بنیادی مقصد شہریوں کو روزمرہ سفر میں گاڑیوں کے بجائے پیدل یا سائیکل استعمال کی طرف راغب کرنا ہے۔یہ منصوبہ شہری منصوبہ ساز کمپنی یو آر بی کی جانب سے 2040 پلان کے ضمن میں پیش کیا گیا ہے۔ مجوزہ راستہ شہر کے اہم علاقوں کو آپس میں مربوط کرے گا، جن میں شیخ زاید روڈ، دبئی مرینا، ڈاؤن ٹاؤن اور برج خلیفہ کے اطراف شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ البرشا، الکوز، میدان، ند الشیبہ، اکادمک سٹی، دبئی لینڈ اور ایکسپو سٹی بھی اس دائرہ نما راستے میں شامل کیے جانے کی تجویز ہے تاکہ نقل و حرکت کے روٹ بڑے پیمانے پر مربوط ہوں۔منصوبے کا مرکزی ہدف یہ ہے کہ دبئی کے 80 فیصد سے زائد رہائشی روزمرہ ضروریات کے لیے کار کے بجائے پیدل یا سائیکل استعمال کریں، جو شہر کے "بیس منٹ شہر” کے تصور کے مترادف ہے جہاں بنیادی سہولیات بیس منٹ کے اندر دستیاب ہوں۔ اس خیال کے تحت شہری نقل و حمل کے نمونے تبدیل کر کے ذیادہ پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔تجویز کردہ راہ میں سال بھر قابلِ استعمال مکمل ایئر کنڈیشنڈ ماحول فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے اور اس کو ایک جامع ماحولیاتی حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ منصوبے میں کلائمیٹ کنٹرولڈ راستہ کے ساتھ پریشر سینسیٹو پیڈز کے ذریعے قدموں سے بجلی پیدا کرنے اور پورے منصوبے کو 100 فیصد قابلِ تجدید توانائی سے چلانے کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ آبپاشی کے لیے ری سائیکل شدہ پانی کے استعمال کی تجویز بھی شامل ہے۔مزید برآں منصوبے میں فٹنس اسٹیشنز، پارکس، کمیونٹی ایریاز، اسپورٹس کورٹس اور عمودی فارمز جیسے عناصر تجویز کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو روزمرہ استعمال کے ساتھ تفریح اور سماجی رابطے کے مواقع بھی میسر ہوں۔ مجوزہ فوائد کے مطابق یہ راستہ براہِ راست تین ملین سے زائد افراد کو سہولت پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے اور مجموعی شہری معیارِ زندگی میں بہتری لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔تاہم سرکاری سطح پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ فی الوقت محض کنسیپٹ اور تجویز کی سطح پر ہے۔ یہ تجویز 2023 میں پیش کی گئی تھی مگر 2025 تک اس پر کسی طرح کے تعمیراتی کام کا آغاز نہیں ہوا، اس لیے عملدرآمد ابھی غیر یقینی ہے اور متعلقہ حکام اور منصوبہ ساز اداروں کے مزید فیصلوں کے منتظر ہے۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی میں ایک علیحدہ سرکاری منصوبہ "دبئی واک ماسٹر پلان” بھی جاری ہے جس کے تحت 2040 تک چھ ہزار پانچ سو کلومیٹر طویل واکنگ پاتھز تعمیر کیے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے اور ان میں بعض ایئر کنڈیشنڈ راستے بھی شامل ہوں گے، مگر 93 کلومیٹر طویل یہ مجوزہ دائرہ نما راستہ خاص طور پر ‘دا لوپ’ کے نام سے ایک الگ تجویز کے طور پر سامنے ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تصور عملی شکل اختیار کرلے تو شدید گرمی والے شہروں میں پائیدار شہری نقل و حرکت کے نئے نمونے قائم ہو سکتے ہیں، مگر عملی چیلنجز، لاگت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے امور اس کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے