اسلام آباد میں خواتین کی حیثیت سے متعلق نیشنل کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) نے جہیز اور دلہن کے تحائف کی روایات سے متعلق قوانین میں اصلاحات پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن نے جہیز اور دلہن کے تحائف (ممنوعات) ایکٹ 1976 کے حوالے سے دوسری قومی مشاورت کا انعقاد کیا، جس کا مقصد خاندانی قوانین میں پائی جانے والی امتیازی شقوں کا جائزہ لینا اور انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہے۔
این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن محترمہ عمی لیلیٰ اظہر کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی دارالحکومت، وزارت قانون و انصاف، وزارت انسانی حقوق اور وزارت مذہبی امور سمیت کلیدی اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس قانون کی مختلف شقوں پر تفصیل سے بات چیت کی اور اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں، تاکہ قانون کو عملی طور پر مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
محترمہ عمی لیلیٰ اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہیز نہ صرف صنفی بنیاد پر تشدد بلکہ معاشی ناانصافی کی شکل بھی ہے، جسے کسی بھی ثقافتی جواز کے نام پر خواتین کے حقوق پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
اجلاس میں قانون کی شق بہ شق جانچ پڑتال کی گئی، اس میں موجود خامیوں اور عملی مشکلات کی نشاندہی کی گئی اور سفارشات پیش کی گئیں جن کے ذریعے اس قانون کو بین الاقوامی معیار اور معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
این سی ایس ڈبلیو نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو صرف نمائشی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کے لیے قانون سازی اور عملدرآمد میں سنجیدگی اور پختہ عزم دکھایا جائے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملنے والی آراء اور تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے، آئندہ مرحلے میں عملی اور شواہد پر مبنی ترامیم تیار کی جائیں گی۔
