سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کے اندر بیک وقت دو سی سیکشن کے عملیات دکھانے کے بعد تشویش بڑھا دی ہے، ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد طبی اخلاق، مریضوں کی حفاظت اور ہسپتال کے ضوابط پر سوالات اٹھائے گئے۔محکمہ خصوصی صحت و طبی تعلیم پنجاب نے اس معاملے میں پانچ تربیتی ڈاکٹروں کے علاوہ اینستھیزیا شعبے کے سربراہ اور ہسپتال کے انتظامی سربراہ کو معطل کر کے وضاحتی نوٹس جاری کر دیے، اس فیصلے کے بعد طبی برادری میں تنازع اور بحث جاری ہے۔نوجوان ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی نے کارروائی کی بنیاد اور وقت کے انتخاب پر تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام "غیر منصفانہ اور جلدبازی پر مبنی” معلوم ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو کی تاریخ قریباً آٹھ ماہ پرانی ہے اور اگر اس میں واقعی کوئی غیر اخلاقی یا ضابطے کی خلاف ورزی تھی تو اُس وقت قدم اٹھایا جانا چاہیے تھا، سوشل میڈیا کے دباؤ میں فوری پابندیاں لاحق کرنا درست فیصلہ نہیں۔ڈاکٹر شعیب نیازی نے مؤقف اپنایا کہ ویڈیو میں واضح طور پر مریض کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی نظر نہیں آتی بلکہ یہ منظر ڈاکٹروں کے محدود وسائل اور شدید دباؤ میں کام کرنے کی عکاسی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آپریشن تھیٹر میں دو کیسز کی ہینڈلنگ زمینی حقائق کو ظاہر کرتی ہے اور اکثر اوقات عملہ بھاری ورک لوڈ اور سہولتوں کی کمی کے باعث ایسے اقدامات پر مجبور ہو جاتا ہے۔یونین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آپریشن تھیٹر میں ویڈیو ریکارڈنگ کرنا پیشہ ورانہ اخلاق کے خلاف ہے اور اس عمل کی حمایت نہیں کی جاتی، مگر انہوں نے واضح کیا کہ ایک واحد غلطی کی بنیاد پر سخت سزائیں دینا غیر متناسب ہے۔ نوجوان ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر گرفتاریاں مانگنے والوں کو ذمہ داری یاد دلائی اور سوال اٹھایا کہ کیا وہ ڈاکٹرز کی طویل ۳۶ سے ۴۸ گھنٹے مسلسل ڈیوٹیاں، ذہنی دباؤ اور کڑی تربیت کے حالات کبھی سامنے رکھتے ہیں جبکہ وہ روزانہ ہزاروں زندگیاں بچاتے ہیں۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں طبی برادری کے حوصلے کو متاثر کریں گی اور پہلے سے دبے ہوئے صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر معطلیوں کا ازسرنو جائزہ نہیں لیا گیا تو احتجاج کے حق کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔دوسری جانب محکمہ صحت نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی ضوابط اور ہسپتال کے پروٹوکول کے مطابق کی گئی، تاہم اب تک نوجوان ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے تازہ بیان پر کوئی سرکاری جوابی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور اگر ٹھہراؤ نہ آیا تو احتجاج کا امکان قائم ہے، جبکہ طبی اور انتظامی حلقے اس تنازع کے ممکنہ اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
