ڈیوسنک نے مقامی سطح کی معروف مصنوعی ذہانت کمپنی ڈیٹکس اے آئی کو حاصل کر کے ملک کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ سال دو ہزار پچیس کی ڈیوسنک کی تیسری بڑی حصولیّت ہے جو الکیمیٹیو اور کلاؤڈ ون کے بعد سامنے آئی ہے۔ڈیٹکس اے آئی، جسے صدرِ پاکستان نے دو ہزار بائیس میں بہترین سافٹ ویئر ہاؤس کے اعزاز سے نوازا تھا، مشین لرننگ، پیشگوئی پر مبنی تجزیات اور ایجنٹ پر مبنی اے آئی نظاموں میں مہارت رکھتی ہے۔ اس حصولیّت کے بعد کمپنی کے بانی عمیر مجید سینیئر نائب صدر برائے نمو کے فرائض سنبھال لیں گے جبکہ سابق ٹیکنالوجی سربراہ رانا عمر مجید سینیئر نائب صدر برائے اے آئی فعال سازی اور تبدیلی کے طور پر شامل ہو گئے ہیں۔عثمان آصف نے کہا کہ یہ اقدام عالمی اداروں کو اگلی نسل کی مصنوعی ذہانت خدمات فراہم کرنے میں کمپنی کی صلاحیت کو مستحکم کرے گا اور پاکستان کی گہری ٹیکنالوجی مہارتوں کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرے گا۔ وہ اس حصولیّت کو طویل المدت سرمایہ کاری قرار دے رہے ہیں جس سے شمالی امریکہ، مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا پیسیفک میں رسائی بڑھانے میں مدد ملے گی۔عمیر مجید نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے امتزاج سے عالمی سطح کے ادارہ جاتی معیار کے مطابق حل تیار ہوں گے اور پاکستانی گہری ٹیک صلاحیتیں تیز رفتار مارکیٹس میں قابلِ مقابلہ بنیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹکس اے آئی کے ایجنٹک اے آئی تجربات اور ڈیوسنک کے عالمی ڈیلیوری نیٹ ورک کے ملاپ سے ترسیلی حل فراہم کیے جائیں گے۔مرکب ٹیمیں صحت، مالیات، ریٹیل، ٹیلی مواصلات، گاڑی سازی اور سرکاری شعبے میں کام کریں گی اور پیشگوئی پر مبنی تجزیات، مشین لرننگ اطلاقات، ایجنٹ پر مبنی اے آئی معماریاں اور حقیقی وقت کے ڈیٹا پلیٹ فارمز فراہم کریں گی۔ عالمی ڈیٹا اینالٹکس کی صنعت کی قدر دو ہزار بتیس تک تقریباً چار سو دو اعشاریہ سات ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے ایسے ضم اور توسیعی اقدامات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ڈیوسنک ایک عالمی ٹیکنالوجی فرم ہے جو صحت، تعلیم اور ادارہ جاتی سافٹ ویئر میں مکمل ڈیجیٹل حل فراہم کرتی ہے اور پاکستان، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ٹیموں کے ذریعے عالمی موجودگی بڑھا رہی ہے۔ اس تازہ حصولیّت سے کمپنی کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالٹکس کی صلاحیتیں مضبوط ہوں گی اور ملکی ٹیکنالوجی میدان میں نئی راہیں کھلیں گی۔
