ڈنمارک کے فلوک ہائی اسکولز کا منفرد تعلیمی سفر

newsdesk
2 Min Read

ڈنمارک میں تعلیم صرف نمبروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد شہریوں کی مجموعی تربیت اور ترقی ہے۔ یہاں 1844 سے عوامی تعلیمی ادارے، جنہیں "فوک ہائی اسکولز” یا "ہوج اسکولرز” کہا جاتا ہے، سماج کے عام افراد کو وہ ضروری مہارتیں سکھا رہے ہیں جو زندگی میں کامیابی کیلئے درکار ہیں۔

یہ اسکولز رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں اور یہاں نہ امتحانات ہوتے ہیں نہ ہی نمبروں کی دوڑ ہے۔ زیادہ تر اسکولز میں ایک ہفتے یا اس سے زائد دورانیے کے رہائشی کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کورسز کی فیس ہوتی ہے، لیکن وہ نہایت کم ہے اور اس میں رہائش اور کھانے کی سہولیات بھی شامل ہیں، تاکہ طلبہ پوری توجہ سے اپنی تعلیم پر مرکوز رہ سکیں۔

یہ تعلیمی ادارے مشہور ڈینش تعلیم دان نکولائی گرُنٹویگ کے نظریات سے متاثر ہیں، جن کا ماننا تھا کہ دیہی علاقے کے افراد کو یکساں تعلیمی مواقع دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ شہروں کے تعلیم یافتہ طبقے کو۔

آج کے دور میں ڈنمارک بھر میں 75 سے زائد وج اسکولرز کام کر رہے ہیں، جن میں فلم، ڈیزائن، کھیل، تھیٹر اور سیاست سمیت مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولز کے ذریعے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل رہا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے