پاکستانی تعلیمی وفد سے ملاقات میں ڈی-8 کے نیٹ ورک آف پائنیئرز فار ریسرچ اینڈ انوویشن (NPRI) کو اجاگر کیا گیا
استنبول: ڈیولپنگ-8 آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن (ڈی-8) کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے استنبول میں ڈی-8 سیکریٹریٹ میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ہونے والی بات چیت میں ڈی-8 کے قیام اور تاریخی ارتقاء، مختلف شعبوں میں جاری تعاون کی موجودہ سمت، اور بالخصوص اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدت کے میدان میں تنظیم کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اور سائنسی شعبے کے سینئر نمائندگان شامل تھے، جن میں ڈاکٹر عبدالباسط، صدر ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) فیڈرل چیپٹر؛ صبور سیٹھی، صدر سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پشاور؛ اور محمد مرتضیٰ نور، او آئی سی کامسٹیک اسلام آباد میں سی سی او ای اور آؤٹ ریچ کے فوکل پرسن و کوآرڈینیٹر شامل تھے۔
اپنے خطاب میں سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی ڈی-8 تعاون کے بنیادی ستون ہیں، جو ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص ڈی-8 نیٹ ورک آف پائنیئرز فار ریسرچ اینڈ انوویشن (NPRI) کو ایک فلیگ شپ پلیٹ فارم قرار دیا، جو رکن ممالک کی ممتاز جامعات کو باہم جوڑتا ہے اور اس وقت 28 نمایاں اداروں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے مزید پاکستانی جامعات کو متعلقہ قومی وزارتوں کے ذریعے اس نیٹ ورک کا حصہ بننے کی ترغیب دی۔
سفیر سہیل محمود نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان ڈی-8 کے اہم ذیلی اداروں کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں قائم ڈی-8 NPRI سیکریٹریٹ، اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں قائم ڈی-8 ریسرچ سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی (RCAFS) شامل ہیں۔
وفد کے اراکین نے سیکریٹریٹ کی جانب سے تعلیمی اور سائنسی تعاون کے فروغ کی کوششوں کو سراہا اور ڈی-8 کے اقدامات، خصوصاً NPRI فریم ورک کے تحت مزید شمولیت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ وفد یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ (EURIE) 2026 میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دورے پر ہے، جس میں دنیا بھر کی جامعات اور اداروں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ یہ شرکت پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے پھیلاؤ اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
