اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور پاکستان نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایک یادداشت برائے تفاهم پر دستخط کیے جو ادارہ جاتی سطح پر سائبر سیکیورٹی تعاون کو باقاعدہ شکل دے گی۔ دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے سینئر حکام موجود تھے جن میں ڈائریکٹر جنرل حیدر عباس اور صدر جواہر سلیم شامل تھے۔صدر جواہر سلیم نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی قومی سلامتی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے اور اس کا دائرہ کار ریاستی اداروں سے کہیں آگے بڑھ کر معیشت، حکمرانی اور سماجی پائیداری تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی پر مبنی تحقیقی اداروں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مضبوط رابطے کی ضرورت کو یہ شراکت واضح کرتی ہے اور انسٹی ٹیوٹ تحقیق، مکالمہ اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرے گا تاکہ حقیقی سطح پر مؤثر نتائج سامنے آئیں۔ یہاں بھی وہی مقصد واضح ہے کہ مستقبل میں ملک گیر سطح پر مضبوط سائبر سیکیورٹی تعاون یقینی بنایا جائے۔ڈائریکٹر جنرل حیدر عباس نے زور دیا کہ قومی سلامتی اور سائبر سیکیورٹی الگ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے جدید خطرات اور ان کی پیچیدہ نوعیت کی نشاندہی کی اور خاص طور پر کرپٹوجیکنگ جیسے حملوں کا ذکر کیا، جن میں آلات بظاہر غیر فعال دکھائی دینے کے باوجود نظامی وسائل کو خاموشی سے استعمال کر کے نقصانات پہنچاتے ہیں۔ حیدر عباس نے کہا کہ ان خطرات کے خلاف ادارہ ملکی سطح پر تکنیکی رابطے اور واقعہ کے فوری ردعمل کے ذریعے قابو پانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیق، ماہرین کے تبادلے، تربیتی اور صلاحیت سازی پروگرام، انٹرنشپس اور عوامی شعور بیدار کرنے کے پروگراموں میں تعاون کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد پالیسی سازی اور تکنیکی نفاذ کے درمیان موجود خلاء کو پُر کرنا اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو حقیقی دنیا کے سائبر چیلنجز سے متعارف کرانا ہے تاکہ نوجوان براہ راست ملک کی سائبر حفاظتی کوششوں میں حصہ ڈال سکیں اور مضبوط سائبر سیکیورٹی تعاون کی فضا قائم ہو۔دونوں اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شراکت عملی نوعیت کی تحقیق پیدا کرے گی، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی طویل مدتی سائبر مزاحمت کو فروغ ملے گا۔ یہ معاہدہ ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔شرکائے تقریب نے کہا کہ آئندہ بھی مشترکہ اقدامات اور تعلیمی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ یہ تعاون نہ صرف کاغذی دستاویز تک محدود رہے بلکہ حقیقی سطح پر قابل عمل اور نتائج خیز ثابت ہو کر ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کا محافظ ثابت ہو۔
