9واں سی پیک میڈیا فورم: پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون مضبوط بنانے اور جھوٹی خبروں کے تدارک پر زور
اسلام آباد، 24 دسمبر 2025: پاکستان۔چین انسٹیٹیوٹ (PCI) نے چائنا اکنامک نیٹ اور عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے اشتراک سے اسلام آباد میں 9واں سی پیک میڈیا فورم منعقد کیا۔ فورم میں پاکستانی و چینی اعلیٰ حکام، سفارت کاروں، میڈیا نمائندوں اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ فورم کا مقصد سی پیک 2.0 کے تحت میڈیا تعاون کو فروغ دینا اور پاکستان۔چین تعاون کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات، پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کا مؤثر جواب دینا تھا۔
افتتاحی خطاب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی سی آئی مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ سی پیک میڈیا فورم 2015 سے پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون کا ایک نمایاں پلیٹ فارم رہا ہے، جس کا آغاز صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورۂ پاکستان کے بعد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فورم کا بنیادی مقصد سی پیک سے متعلق حقائق پر مبنی بیانیہ تشکیل دینا ہے، جبکہ سی پیک 2.0 کے اعلان کے بعد یہ فورم خصوصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
پی سی آئی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غلط معلومات، گمراہ کن خبروں اور پروپیگنڈے نے ایک سنگین اسٹریٹجک چیلنج کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے یورپی ادارے ای یو ڈس انفولیب کی رپورٹ "انڈیا کرانیکلز” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کے خلاف منظم معلوماتی جنگ جاری ہے، جس کا مؤثر اور مربوط جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان۔چین تعلقات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور قرار دیا۔
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شیزرا منصب علی خراّل نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین عالمی ماحولیاتی حکمرانی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سی پیک سے متعلق غلط معلومات کے فوری تدارک کے لیے مشترکہ پاکستان۔چین میڈیا میکنزم کے قیام کی تجویز دی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک ترقی، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کا مظہر ہے۔ انہوں نے سی پیک 2.0 کے تحت میڈیا اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کے تبادلوں کو بڑھانے اور سی پیک سے متعلق جھوٹی خبروں کے تدارک کے لیے فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے پاکستان۔چین دوستی کو ہر سیاسی اور سماجی سطح سے بالاتر قرار دیتے ہوئے سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت زراعت، معدنیات اور صنعت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چینی اخبار اکنامک ڈیلی کے صدر ژینگ چنگ ڈونگ نے کہا کہ سی پیک ایک نئے اور ترقی یافتہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس منصوبے کی درست، جامع اور متوازن تصویر پیش کرے۔
فورم میں شریک دیگر مقررین نے سی پیک کو عوامی مفاد پر مبنی منصوبہ بنانے، شفافیت، ذمہ دار صحافت اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر پاکستان۔چین انسٹیٹیوٹ نے ایک تحقیقی رپورٹ بعنوان "پاکستان میں چینی تکنیکی معیار کے عملی اطلاق کا تجزیہ” بھی لانچ کی۔
تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس فورم میں مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔
Read in English: 9th CPEC Media Forum Calls for Stronger Pakistan–China Media Cooperation Against Disinformation
