کونسل نے واضح کیا کہ کسی افسر کی گرفتاری نہیں ہوئی

newsdesk
3 Min Read
کونسل نے کہا کہ کسی افسر کو گرفتار نہیں کیا گیا، ایک ڈرائیور کو نام کے غلط استعمال پر گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف داخلی تفتیش شروع کی گئی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سینئر یا فرائض انجام دینے والے افسر کو کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے گرفتار نہیں کیا، اور یہ کہ رپورٹس میں پیش کی جانے والی تفصیلات گمراہ کن تھیں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اصل گرفتاری ایک ایسے ڈرائیور کی تھی جو عمومی صفائی اور ڈرائیونگ کے فرائض انجام دیتا تھا اور اس کا ادارے کے داخلہ، رجسٹریشن یا پالیسی سازی سے کوئی تعلق اور رسائی نہیں تھی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازم کا عمل محض گاڑی چلانے تک محدود تھا اور وہ کسی فیصلہ سازی یا عملی سیکشن تک رسائی نہیں رکھتا تھا۔ اس واقعے کی اطلاع ملنے پر کونسل نے فوری طور پر داخلی سطح پر تفتیش کا آغاز کیا اور متعلقہ ملازم کو ضبطِ خدمات کرتے ہوئے معطل کر دیا گیا، اس کی تنخواہ معطل کر دی گئی اور محکمانہ کارروائی کے مطابق معاملہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔کونسل نے مزید کہا کہ انہیں گرفتاری کی خبر پہلے پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع سے ملی، جس کی تصدیق بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے سے ہوئی۔ اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کونسل تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ قانون کے مطابق انصاف یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف سخت موقف اپنایا جائے۔ادارہ نے واضح کیا ہے کہ داخلہ کے قومی عمل میں کونسل کا کوئی براہِ راست کردار نہیں ہوتا اور یہ امور صوبائی داخلہ دینے والی یونیورسٹیوں کے اختیار میں ہیں۔ اس تناظر میں کونسل نے والدین اور طلبہ سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر مجاز فرد یا ثالث کے ساتھ معاملہ نہ کریں اور صرف سرکاری مواصلاتی ذرائع پر دی گئی معلومات پر انحصار کریں۔یہ واضح بیانیہ اس بارے میں جاری کیا گیا کہ افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے کونسل کی ساکھ پر اثر پڑنے کی کوشش ہوئی، تاہم ادارہ اپنی میرٹ، شفافیت اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور گرفتاری نہیں کی حقیقت کو واضح رکھتے ہوئے قانون کے دائرے میں کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے