بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائنسز جامعہ کراچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ماہرین، وائس چانسلرز، محققین اور مختلف سائنسی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس تربیتی کورس کا اہتمام کامسٹیک اور پنجوانی مرکز برائے سالماتی طب و دوا تحقیق نے مشترکہ طور پر کیا جس کا مقصد وائرولوجی اور وبائی تیاری کے شعبے میں استعداد بڑھانا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ نے خوش آمدیدی خطاب میں مرکز کی تحقیقاتی خدمات اور اسلامی دنیا میں جدت کے فروغ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط تحقیقی نیٹ ورک اور تربیت نوجوان محققین کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں جن سے ملک اور خطے کی سائنسی صلاحیتیں مستحکم ہوں گی۔پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے مرکزی تقر یرہ کرتے ہوئے کہا کہ وبائی بیماریوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی تعاون، فوری ردِ عمل کے نظام اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی کتنی ضرورت ہے۔ انہوں نے وائرولوجی میں تشخیصی صلاحیتوں کی بہتری، لیب نیٹ ورکس اور تربیتی پروگراموں کو انتہائی اہم قرار دیا اور کمیونٹی میں مضبوط تیاری کے لیے حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔“مشترکہ تحقیق اور علم کے اشتراک کے ذریعے ہم بہتر تیاری اور جوابی صلاحیتیں بڑھا سکتے ہیں”، ان الفاظ میں انہوں نے نوجوان محققین کو بااختیار بنانے اور پائیدار سائنسی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس کورس کو خطے میں مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔تقریب میں نادرہ پنجوانی، پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین اور جمشید عالم میمن سمیت دیگر سنجیدہ شخصیات نے بھی شرکت کی اور اس اقدام کو وائرولوجی اور وبائی تیاری کے شعبوں میں قابلِ تعریف قرار دیا۔ شرکاء نے کہا کہ اس قسم کے تربیتی پروگرام نہ صرف تربیت فراہم کریں گے بلکہ تحقیقی تعاون اور تجرباتی صلاحیتوں کو بھی تقویت دیں گے۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کورس علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر لیباریٹری شراکت داری، جدید تشخیصی مہارتیں اور نوجوان سائنسدانوں کی تربیت کے ذریعے مستقبل میں وبائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھائے گا۔ کورس کے ذریعے وائرولوجی کے عملی اور نظریاتی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے مضبوط اور دیرپا حل تشکیل پائیں۔
