کومسٹیک نے جرمن اداروں کے ساتھ علمی تعاون کو تقویت دی

newsdesk
3 Min Read
برلن میں ملاقات میں کومسٹیک کے سربراہ نے جرمن تحقیقی اداروں کے ساتھ علمی تعاون، مشترکہ ریسرچ اور اسکالرشپس پر تفصیلی بات کی

کامسٹیک کا جرمن اداروں کے ساتھ سائنسی تعاون بڑھانے پر زور

اسلام آباد: تنظیم تعاون اسلامی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے رابطہ کار جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے جرمنی کے ممتاز تحقیقی اداروں اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی و تحقیقی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ بات انہوں نے برلن میں پاکستان کے سفارت خانے میں جرمنی میں پاکستان کی سفیر ثقلین سیدہ سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان جرمن اداروں اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعلیمی شراکت داری، تحقیقی تعاون اور سائنسی تبادلوں کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے سفیر ثقلین سیدہ کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے ممتاز تحقیقی اداروں جیسے لائبنز ایسوسی ایشن، میکس پلانک سوسائٹی، فراون ہوفر سوسائٹی اور ہیلم ہولٹز ایسوسی ایشن کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک خصوصاً افریقہ کے کم ترقی یافتہ ممالک میں سائنسی و تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ملاقات کے دوران پروفیسر چوہدری نے جرمن تعلیمی تبادلہ سروس کے تعاون سے کامسٹیک اور جرمنی کے درمیان ایک منظم سائنسی شراکت داری قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ طویل المدتی تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے قابل تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی، طبی علوم، مصنوعی ذہانت اور آبی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو پائیدار ترقی کے عالمی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔

مجوزہ تعاون کے تحت وظائف میں اضافہ، مشترکہ فیلوشپس، تعلیمی تبادلہ پروگراموں کے فروغ اور مہاجرین اور میزبان کمیونٹیز کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم تک رسائی بڑھانے جیسے اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے جرمنی اور کامسٹیک کے درمیان سالانہ سائنسی پالیسی مکالمہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی جس کا مقصد سائنسی سفارت کاری، جدت اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے سفیر ثقلین سیدہ کو پاکستان کے آئندہ دورے کے دوران اسلام آباد میں کامسٹیک کے صدر دفتر کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ اس اہم تعاون کو عملی شکل دینے کے طریقہ کار پر مزید تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے