اسلام آباد میں وزارتِ انسانی حقوق کے کمیٹی روم، کوہسار بلاک، پاک سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کی صدارت سیدہ نوشین افتخار نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی نے وفاقی حکومت کے پیش کردہ "اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سینیئر سٹیزنز (ترمیمی) بل ۲۰۲۵” کو قومی اسمبلی میں بطور بل منظور کرنے کی سفارش متفقہ طور پر کی۔ یہ فیصلہ بزرگ شہریوں کے تحفظ اور سہولیات کو بہتر بنانے کے ارادے کا عکاس ہے۔کمیٹی برائے انسانی حقوق نے موجودہ حکومت کی اقلیتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ علاقوں میں رہنے والی اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملکی ترقی میں ان کا حصّہ بڑھ سکے۔ کمیٹی نے وزارتِ انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ وہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے حقوق کے قیام کے عمل کو تیز کرے تاکہ اقلیتوں کے مسائل بہتر انداز میں حل ہو سکیں اور اس عمل میں کمیٹی کو بروقت اعتماد میں لیا جائے۔اجلاس میں ممبران نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سوشل میڈیا کے بد استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے پر موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی طبقات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارتِ داخلہ اور محکمہ کنٹرولِ منشیات کو مدعو کر کے مفصل گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں سیدہ نوشین افتخار کے علاوہ زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تانولی، تمکین اختر نیازی، سہرا کامران، شاہدہ رحمانی، ناز بلوچ، نوید عامر، صبیحہ غوری اور وزارتِ انسانی حقوق و وزارتِ قانون و انصاف کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا ریکارڈ اور آئندہ لائحہ عمل کمیٹی کے سیکرٹری، خالد ملک جویا نے مرتب کیا۔کمیٹی برائے انسانی حقوق نے واضح کیا کہ بزرگ شہریوں کے بل کی منظوری کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق کے نفاذ اور منشیات و سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے تدارک کے لیے مربوط حکمتِ عملی ضروری ہے، اور متعلقہ وزارتیں آئندہ اجلاس میں اپنی ذمہ داریوں اور اقدامات سے آگاہ کریں گی۔
