وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں 38ویں سینیئر مینجمنٹ کورس کے افسران سے ملاقات کے دوران پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے زراعت اور غذائی تحفظ کو ملک کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت مختلف شعبوں میں موسمیاتی ردعمل کو مضبوط بنانے اور پائیدار فوڈ سسٹمز کے قیام پر کام کر رہی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے افسران کو بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی ملک میں پانی کی کمی اور کم پانی سے پیداواریت جیسے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ ان مسائل کا براہ راست تعلق قومی غذائی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مقامی حل اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پانی کے استعمال میں بہتری اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
ملاقات کے دوران مقامی سطح خصوصاً تحصیل اور ضلعی سطح پر عملی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور کمیونٹیز کی شمولیت سے موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ کے قومی مقاصد کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر سطح پر مربوط اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ہی ملک کو موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
