۲۵ ستمبر ۲۰۲۵ کو کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ تقریب میں سائٹیڈل پاتھ فائنڈر اسکول آف ایکسیلنس اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے درمیان ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد پاکستانی ٹیک اسٹیٹ اپس کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانا ہے۔ اس اقدام کے تحت منتخب کردہ کمپنیوں کو تربیت، رہنمائی اور عالمی نمائش کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ جنوری ۲۰۲۶ میں ڈیووس کے اسٹارٹ اپ چیلنج میں حصہ لے سکیں۔اکرام سہگل نے اس موقع پر کہا کہ یہ معاہدہ نوجوانوں کو عالمی ٹیک قیادت میں تبدیل کرنے کے لئے ایک اہم قدم ہے اور سائٹیڈل پاتھ فائنڈر کا نصب العین مہارت کی ترقی، روزگار کی تخلیق اور اقتصادی بااختیاری ہے۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ پاتھ فائنڈر کی مضبوط رہنمائی کو پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے وسیع صنعتی نیٹ ورک اور وسائل کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ اسٹارٹ اپس کو عملی مدد مل سکے۔سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ پیشا اس شراکت داری سے خوش ہے اور ڈیووس اسٹارٹ اپ چیلنج کو پاکستانی ڈیجیٹل صلاحیت دکھانے کا سنہری موقع قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ادارہ منتخب اسٹارٹ اپس کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے قابل بنائے گا اور بین الاقوامی مواقع تک رسائی میں مدد کرے گا۔معاہدے کے تحت شمولیت اختیار کرنے والے منصوبوں کو تربیتی کورسز، مینٹورشپ سیشنز اور نیٹ ورکنگ کے مواقع دیے جائیں گے، جس کا حتمی مقصد انہیں عالمی فورم پر پیش کرنا ہے۔ انتخاب کے بعد کامیاب اسٹارٹ اپس کو ڈیووس میں پچنگ کا موقع ملے گا جہاں وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شرکاء کے سامنے اپنی جدت اور ترقیاتی منصوبے پیش کریں گے۔یہ اقدام پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے لئے ایک وقت معنی خیز موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ملک نے ۲۰۲۶ تک پانچ ارب ڈالر برآمدات کے ہدف کا عزم ظاہر کیا ہوا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ شراکت داری نہ صرف مہارتوں کی ترقی میں معاون ہوگی بلکہ بین الاقوامی سطح پر شراکت داری اور سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھولے گی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی ٹیکنالوجی اور دیگر جدت پسند شعبوں میں۔شہرِ کراچی میں منعقدہ اس تقریب کے دوران معاہدے کی دستاویزات پر دستخط اور باہمی عزم کے اظہار سے واضح ہوا کہ دونوں فریق پاکستان کے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لئے منظم طور پر کام کریں گے، تاکہ پاکستانی اسٹارٹ اپس کو مضبوط شروعات اور ضروری عالمی نمائش میسر آسکے۔
